Naseem ul Mufti Urdu Sharh Uqood Rasm ul Mufti pdf نسیم المفتی اردو شرح عقود رسم المفتی

Naseem ul Mufti Urdu Sharh Uqood Rasm ul Mufti pdf نسیم المفتی اردو شرح عقود رسم المفتی

Naseem ul Mufti Urdu Sharh Uqood Rasm ul Mufti by Mufti Rizwan Naseem Qasmi

PDF Viewer

کتاب: نسیم المفتی اردو شرح عقود رسم المفتی

مصنف: مفتی رضوان نسیم قاسمی

موضوع: اردو شرح عقود رسم المفتی

فن: اصول افتاء

ناشر: مکتبۃ دارارقم نیپال

تعداد :1 جلد

صفحات: 138

نسیم المفتی اردو شرح عقود رسم المفتی کی خصوصیات

منظومہ عقود رسم المفتی کا اردو ترجمہ
اس کتاب میں منظومہ عقود رسم المفتی کا نہایت واضح اور رواں اردو ترجمہ شامل ہے، جس سے متن کی بنیادی روح آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہے۔

افتاء کے اصول اور مناہج کی وضاحت
نسیم المفتی اردو شرح عقود رسم المفتی میں افتاء کے اصول، طریقہ کار اور مناہج پر تفصیلی اور مدلل بحث کی گئی ہے، جس سے طلبہ کو افتاء کی عملی سمجھ حاصل ہوتی ہے۔

معتبر اور غیر معتبر کتب کی علامات
کتاب میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کن کتابوں پر فتویٰ میں اعتماد کیا جائے اور کن سے احتیاط برتی جائے، جو ہر مفتی کے لیے نہایت ضروری علم ہے۔

اختلافی اقوال میں ترجیح کے اصول
اختلافی مسائل میں ترجیح کے اصول و قواعد کو مستند فقہی حوالوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، جو فتویٰ نویسی میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

مستند کتب کے حوالہ جات
مصنف نے ہر اہم بحث میں معتبر اور معتمد فقہی کتب سے حوالے پیش کیے ہیں، جس سے کتاب کی علمی قدر و قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

منصبِ افتاء کی عظمت و اہمیت
منصبِ افتاء ایک عظیم اور مہتم بالشان منصب ہے، جس کی فضیلت اور اہمیت ہر شخص پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ اس کی عظمت و قدر و منزلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بذاتِ خود اس کی ذمہ داری لی ہے اور فتویٰ دینے کو اپنی ذات کی طرف منسوب فرمایا ہے۔

قرآنِ کریم میں افتاء کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف
ارشادِ ربانی ہے:
قل الله يُفتِيكُمْ فِي الْكَلالَة (النساء: 176)
آپ کہہ دیجیے کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔
اسی طرح دوسری جگہ ارشاد ہے:
قل الله يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ (النساء: 127)
آپ کہہ دیجیے کہ اللہ تمہیں عورتوں کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ اور سلف صالحین کا منصبِ افتاء پر فائز ہونا
اللہ تعالیٰ کے بعد اس عظیم منصب پر سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فائز ہوئے، جو حوادث و نوازل میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رہنمائی فرمایا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ شرف صحابہ کرام، پھر تابعین عظام، فقہائے اربعہ اور امت کے پاکیزہ نفوس کو حاصل ہوا، جس سے اس منصب کی عظمت اور فضیلت بخوبی واضح ہوتی ہے۔

منصبِ افتاء کی نزاکت اور حساسیت
فتویٰ نویسی کا منصب جتنا مقدس اور اہم ہے، اتنا ہی حساس اور نازک بھی ہے، کیونکہ مفتی کی حیثیت اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان ترجمان کی ہوتی ہے اور وہ فتویٰ دینے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم مقام ہوتا ہے۔ اس لیے فتویٰ دینے میں غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے اور اس گراں بار ذمہ داری کے سلسلے میں بے جا جرأت اور عجلت سے پرہیز نہایت ضروری ہے۔

علمائے امت کی خدمات اور افتاء پر تصنیفات
اسی بنا پر علمائے امت نے عربی اور اردو زبان میں متعدد کتابیں تصنیف کیں، جن میں اس گراں بار ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی گئی، اس کی فضیلت و اہمیت بیان کی گئی، اور افتاء و فتویٰ نویسی کے اصول و ضوابط، مفتی کی شرائط و اوصاف، مفتی بہ قول پہچاننے کی علامات، متعارض اقوال میں ترجیح کے اصول و قواعد، معتبر اور غیر معتبر کتابوں کی پہچان اور اس جیسے دیگر اہم مباحث کو منضبط کیا گیا۔

شرح عقود رسم المفتی کی جامعیت اور اسلوب
اس سلسلے کی سب سے جامع اور مفید کتاب علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ کی شرح عقود رسم المفتی ہے، جس میں افتاء اور فتویٰ نویسی کے اصول و ضوابط، مفتی بہ قول پہچاننے کی علامات، متعارض اقوال میں ترجیح کے اصول و قواعد، معتبر و غیر معتبر کتابوں کی علامات اور دیگر اہم مباحث پر تفصیلی کلام کیا گیا ہے۔

علامہ شامی کا مخصوص اندازِ تالیف اور اس کی دشواری
البتہ علامہ شامی رحمہ اللہ کا اندازِ تالیف دیگر مصنفین سے قدرے مختلف ہے۔ وہ عموماً اپنی طرف سے کوئی مسئلہ بیان نہیں کرتے بلکہ حتی المقدور دیگر فقہاء اور ان کی کتابوں کے حوالے نقل کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بسا اوقات رسم المفتی کے مباحث اور اسالیب ایک عام طالب علم کے لیے سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

کتاب کی تصنیف کا مقصد اور ضرورت
اسی ضرورت کے پیشِ نظر بندہ نے شرح عقود رسم المفتی کے مباحث اور اصولوں کو آسان اردو زبان میں تلخیص و تسہیل کے ساتھ پیش کیا ہے، نیز جن مباحث پر اصل کتاب میں اختصار تھا، ان پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ اللہ رب العزت سے قوی امید ہے کہ یہ کتاب عام و خاص کے لیے مفید ثابت ہوگی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

شکرگزاری اور اعترافِ احسان
اس خوشی و مسرت کے موقع پر سب سے پہلے اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے محض اپنے فضل و کرم سے اس مختصر کاوش کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ اس کے بعد اپنے والدین کا شکر ادا کرنا اپنے لیے فرض سمجھتا ہوں، جن کی دعائیں ہر موڑ پر اس عاجز کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوئیں۔

اہلِ علم و اساتذہ کا شکریہ
نیز فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی، متکلمِ اسلام مفتی محمد راشد صاحب اعظمی، فقیہ النفس مفتی محمد سلمان صاحب منصور پوری، فقیہ النفس مفتی محمد جنید عالم صاحب ندوی قاسمی، مفسرِ قرآن مفتی محمد اعظم صاحب قاسمی، محدثِ جلیل مفتی محمد مصطفیٰ صاحب قاسمی، استاذِ محترم مفتی شاہد علی صاحب قاسمی، مفتی محمد اشرف صاحب قاسمی اور مفتی محمد اعظم صاحب ندوی کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے وقیع کلمات کے ذریعے بندہ کی بھرپور حوصلہ افزائی فرمائی۔ اللہ تعالیٰ ان سب حضرات کو خوش و خرم اور اپنی عافیت میں رکھے۔

کتاب کے پہلے ایڈیشن کا تعارف اور پذیرائی
واضح ہو کہ آج سے تقریباً ساڑھے تین سال قبل اس کتاب کا پہلا ایڈیشن شائع ہوا تھا۔ الحمد للہ! طلبہ اور اساتذہ نے اس کتاب کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا اور اسے خوب سراہا۔ اکابر اہلِ علم نے تقاریظ اور تائیدی کلمات کے ذریعے حوصلہ افزائی فرمائی۔

دوسرے ایڈیشن کی تیاری اور نظرِ ثانی
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے تین سال کے اندر کتاب کا پہلا ایڈیشن ختم ہو گیا، اور اہلِ علم اور مکتبہ کی جانب سے مسلسل اصرار رہا کہ جلد از جلد دوسرا ایڈیشن شائع کیا جائے، لیکن اسی دوران بندہ اصولِ افتاء پر تفصیلی کام میں مشغول ہو گیا، اس لیے اس طرف فوری توجہ نہ دی جا سکی۔

نئے ایڈیشن میں ترامیم اور حذف و اضافہ
فضلِ الٰہی سے آسان اصولِ افتاء کی تکمیل کے بعد ماہِ شعبان میں تونسیم المفتی پر نظرِ ثانی کا آغاز کیا گیا۔ نظرِ ثانی کے دوران کتاب کے مباحث اور ترتیب میں جہاں اصلاح کی ضرورت محسوس ہوئی، وہاں اصلاح کی گئی۔ بعض اہم مباحث، جیسے طبقاتِ فقہاء پر اعتراضات اور ان کے جوابات، فقہی رموز و اصطلاحات اور مشاہیر فقہائے احناف کا مختصر تعارف، جو سابقہ ایڈیشن میں شامل تھے، کسی ناگزیر سبب کی بنا پر اس ایڈیشن سے حذف کر کے آسان اصولِ افتاء میں شامل کر دیے گئے ہیں۔

Leave a Reply