شیخ الحدیث حضرت مولانا قاضی شمس الدین محدث گوجرانوالہ آپ حضرت مولانا حسین علی صاحب کے اہم تلامذہ میں شمار ہوتے تھے ۔ اپنی علمی لیاقت ذہانت اور فکری صلاحیت کی وجہ سے علماۓ عصر میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور ان کی رائے کا احترام کیا جا تا تھا ۔ اپنے پرائے سبھی ان کی علمیت واخلاص کے معترف تھے ۔ بنیادی طور پر مدرس تھے ۔ حدیث و تفسیر کی تدریس میں خاص مہارت رکھتے تھے ،اور ان کا شمار ملک کے بڑے علماء اور اساتذہ میں کیا جا تا تھا۔ ۱۹۰۱ء میں تحصیل پنڈی گھیپ ضلع اٹک کے موضع پڑی میں مولوی شیرمحمد صاحب کے ہاں پیدا ہوۓ ۔مولانا قاضی نورمحمد صاحب آپ کے بڑے بھائی تھے ۔ اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے علاقہ کے چند اسا تذہ سے حاصل کرنے کے بعد فنون عقلیہ ونقلیہ کی تعلیم کے لئے انہی ضلع گجرات ( اب ضلع منڈی بہاولدین) چلے گئے اور استاذ العلماء حضرت مولانا بابانی والے اور مولانا ولی اللہ صاحب کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیے۔ وہاں سے واں بھچراں چلے گئے اور تقریبا پندرہ (۱۵) سال مولاناحسین علی کی خدمت میں رہ کر حدیث ، فقہ ہدایہ مثنوی ، تصوف اور تفسیر قرآن پاک کا علم حاصل کیا۔ آپ کا شمار مولانا حسین علی صاحب واں بھچراں کے اقرب ترین شاگردوں میں ہوتا ہے۔ دورہ حدیث کے لئے دارالعلوم دیو بند میں داخلہ لیا اور حضرت علامہ انور شاہ کشمیری علامہ شبیراحمدعثمانی سے حدیث پڑھی تکمیل علوم کے بعد پنڈی گھیپ میں تدریس شروع کی اور تقریبا بیس سال تک یہاں مختلف علوم کا درس دیا ۔ اسی عرصہ میں دارالعلوم دیو بند سے بلاوا آ گیا ، جہاں آپ نے تقریباً ایک سال تک بطور مدرس پڑھایا ، دارالعلوم دیو بند میں پڑھانا علماۓ ہند کے لئے ایک بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے ۔ قیام پاکستان کے بعد آپ مدرسہ اشاعت العلوم فیصل آباد ( تب لائلپور ) میں پڑھاتے رہے، پھر گوجرانوالہ چلے گئے اور مدرسہ انوار العلوم ، مدرسہ اشرف العلوم وغیرہ میں حدیث پڑھاتے رہے ۔ مدرسہ نصرة العلوم میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ مسئلہ حیات النبی ﷺ میں اختلاف کے باعث مدرسہ نصرۃ العلوم سے علیحدگی اختیار کر لی اور جامعہ صدیقیہ کے نام سے ایک نئے مدرسہ کی بنیادرکھی اور تادم آخراس سے وابستہ رہے ۔ حضرت قاضی صاحب متبحر عالم دین ہونے کے علاوہ ماہر فن استاد تھے اور آپ کے حلقہ درس کی ملک بھر میں خاص شہرت تھی ۔ آپ کا اسلوب درس منطقیانہ ، مناظرانہ اور محدثانہ ہوتا تھا اور دور دور سے لوگ آپ سے پڑھنے کے لئے آتے تھے ۔ حضرت قاضی صاحب نے نقشبندی مجددی طریق پر حضرت مولانا حسین علی صاحب سے بیعت کی اور ان سے خلافت حاصل کی ۔ آپ کا شمار حضرت مولانا کے اجل خلفاء میں ہوتا تھا ۔ اپنے شیخ و مرشد کے ذوق کے عین مطابق ان پر بھی توحید کا غلبہ تھا، مگر اعتدال کے ساتھ وہ دینی معاملات و مسائل میں افراط وتفریط کے سخت مخالف تھے ۔ مولانا حسین علی کے تلامذہ نے اشاعت توحید وسنت کے لئے ایک مرکزی تنظیم تکمیل دینے کے لئے کوشش شروع کی تو حضرت مولانا قاضی شمس الدین اس میں پیش پیش رہے اور تنظیم کا نام بھی آپ نے ہی تجویز فرمایا اور دستور ساز کمیٹی کے چیئر مین بھی آپ ہی مقرر ہوۓ ۔ حضرت مولانا قاضی نور محمد صاحب کی وفات کے بعد جماعت کے نائب امیر بناۓ گئےاور آخری دم تک اس منصب پر فائز رہے۔ حضرت مولانا قاضی صاحب عالم باعمل اور صوفی متبع شریعت تھے ۔ عبادات نفلی کا خاص اہتمام کرتے تھے ۔ عمر بھر اشراق و تہجد کے نوافل پابندی سے ادا کرتے رہے۔اس کے علاوہ درس قرآن عمر بھر کا معمول رہا۔ انہوں نے اہل بدعت سے بار ہا مناظرے کئےاور انہیں شکست فاش دی ۔اپنے مرشد کی زندگی میں کئی مناظروں میں ان کی نیابت کی زندگی میں ایک سادہ لوح شخصیت تھے ۔سادہ لباس پہنتے اور سادہ بودو باش رکھتے۔ مولویانا تکلفات سے کوسوں دور رہتے تھے۔ مہمان نوازی ان کا خاص وصف تھا۔ ۱۹۵۸ء میں جب علماء دیوبند میں حیات النبی بعد از وفات النبی ﷺ عنوان پر اختلاف پیدا ہوا اور طرفین نے تقاریر وخطبات کے علاوہ تحریرات میں بھی طبع آزمائی کی تو حضرت مولانا قاضی صاحب نے مسالک العلماء فی حیات الانباء کے نام سے ایک معرکۃ الآراء کتاب لکھی جس میں سید ناصدیق اکبر رض سے مفتی کفایت نہ دہلوی تک کا مسلک واضح کر کے دعویٰ کیا کہ ان کا اور ان کی جماعت کا مسلک قرآن وسنت اور سلف صالحین کے عین مطابق ہے۔ حضرت مولانا قاضی صاحب کی اس مدل کتاب کا جواب آج میں نہیں دیاجاسکا اس کتاب پر مولا نا محمد منظور نعمانی کے جریدہ ”الفرقان لکھنو” میں تبصرہ کرتے ہوئے مولانا کے صاحبزادے اور مدیر الفرقان مولانا عتیق الرحمن سنبھلی نے لکھا کہ : ” چند سال پہلے ( حیات النبی ﷺ کا مسئلہ ) پاکستان میں بڑے معرکہ کا آغاز ہو گیا تھا اور شاید اب تک اس کے اثرات باقی ہیں ،اس سلسلے میں فریقین کی طرف سے چند کتا میں بھی نکلیں ۔ مولا نا قاضی شمس الدین صاحب کی یہ کتاب اس فریق کے زد میں ہے، جو قبر میں انبیاء کے لئے بعینہ حیات دنیوی ثابت کرتا ہے ، کوئی شبہ نہیں کہ نہایت فاضلانہ کتاب ہے اور اس موضوع پر کلام کے لحاظ سے اس سے زیادہ النبي ٹھوس کتاب ہماری نظر سے نہیں گزری۔ زبان ضرور خالص مدرسانہ ہے، اور وہ بھی پنجاب اور سرحد کے اساتذہ والی ہے ، مناظرانہ طرز بھی کہیں کہیں آ جاتی ہے لیکن مغز کے جو یا اس کی یقین قدرکر میں گئے۔ اس کے علاوہ اسی موضوع پر ان کی دو اور تصانیف “القول الجلي في حيات ﷺ اور” الشهاب الثاقب على من حرف الاقوال والمذاهب “ بھی تحریر فرمائیں ۔ قاضی صاحب اور ان کی جماعت کا مسلک چونکہ علماء کے نزدیک قرآن و سنت کے عین مطابق تھا اور قاضی صاحب کا علم تحقیق بھی اظہر من الشمس اور مسلم تھی ۔ چنانچہ۱۹۶۲ء میں مصالحتی مذاکرات میں مولانا قاری محمد طیب مہتم دارالعلوم نے فریقین بلکہ علماۓ دیو بند کے مشترکہ مؤقف کو ضابطہ تحریر میں لانے کی ذمہ داری بھی آپ کو سونپی۔ حضرت مولانا قاضی صاحب کو تحریر وتصنیف سے بھی دلچسپی تھی ۔انہیں عربی ، فارسی اور اردو تحریر پر عبور تھا۔ ان کا اسلوب تحریر خالصتا عالمانہ تھا۔انہوں نے قرآن پاک کی تفسیر بھی لکھی جس کی صرف ایک جلد شائع ہونگی ۔ اس کے علاوہ کتب حدیث کی شروح اور بعض نصابی کتابوں کی شرح لکھی ، ان کی تصانیف کے نام درج ذیل ہیں : (1) تفسیر تیسیر القرآن ( اردو ) ۔ (2) البام الباری فی حل مشکلات البخاري (عربی)۔ (3) تفسیر قرآن بطرز جلالین ( عربی ) ۔ (4) الہام الملہم شرح صحیح مسلم (عربی) ۔(5) کشف الورود شرح سنن ابی داؤد ۔ (6) تعلیقات شرح مشکوۃ ۔ (7) شرح عبدالرسول فارسی (8)رسالہ تراویح أردو(9) رسالہ طلاق ثلاثہ (اردو)۔ (10) مسالک العلماء فی حیات الانبیاء ( اردو ) ۔ (11) القول البلی فی حیات النبی (اردو) ۔ (12) الشہاب الثاقب ( اردو ) ۔ (13) تسکین القلوب (اردو) (14) ارشادالسبیل (اردو) حضرت قاضی صاحب کے اسلوب تدریس کی اہل علم حضرات میں بہت شہرت تھی، ہزاروں علماء ان سے فیض یاب ہوئے ۔ چند معروف کے نام یہ ہیں : پیر مولانا سید زمان شاه ، شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند * مولانا عبیداللہ جانشین حضرت لاہوری * مولانا نصیر احمد خان * مولا تا بدیع الزمان شاه، شیخ الحدیث دارالعلوم تعلیم القرآن * مولانا مفتی عبدالواحد ، جانشین محدث گوجرنواله د مولانا عبدالرحمن ، جانشین حضرت قاضی شمس الدین * مولانا قاضی عصمت اللہ ،شیخ الحدیث جامعہ محمدیہ * مولا نا قاضی احسان الحق” ، جانشین شیخ القرآن * مولانا سید ضیاءاللہ شاہ بخاری ، جانشین خطیب اسلام جو مولانا سلطان غنی عارف طاہری مدظلہ کھوئی برمول مردان مولا نا محمد ایوب سرحدی علامہ محمد عطاء اللہ بندیالوی ، جانشین حضرت شیخ التفسیر * خطیب العصر مولانا سید عبدالمجید ندیم شاه ملتان * شیخ التفسیر مولا نا محمد ادریس عباسی امام الصرف والنحو مولانا اللہ دتہ،قائدآباد۔ آپ نے چند دن کی مختصر علالت کے بعد مورخہ ۲۱ مئی ۱۹۸۵ء ( بمطابق ار رمضان المبارک ۱۴۰۵ھ بروز جمعه انتقال فرمایا۔ مولانا سید عنایت اللہ شاہ بخاری نے نماز جنازہ پڑھائی اور یوں علم دین کا کوہ وقار اور استاذ العلماء مفسر قرآن ، حدث قول رسول ﷺ ۸۱ سال کی عمر میں گوجرانوالہ میں آسودۂ خاک ہو گیا ۔ آپ کے دو صاحبزادے مولانا قاضی عطاءاللہ اور مولا نا ثناءاللہ اپنے باپ کے مشن کو زندہ کیے ہوئے ہیں۔





