اشرف البیان مع تفسیر اظہار العرفان
Ashraf Ul Bayan with Tafseer Izhar Ul Irfan
اردو ترجمۂ از فارسی ترجمہ وتفسیر جدید
(قدوة الکبراء غوث العالم سید اشرف جہانگیر سمنانی کے فارسی ترجمے کا تعارف اور اردو ترجمے کی ضرورت)
قرآن کریم تمام علوم کا منبع اور ہدایت کا سر چشمہ ہے۔ اس کا نزول عربی زبان میں ہوا اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے مختلف زبانوں میں ترجمے کیے گئے۔ فارسی زبان میں بھی قرآن کے متعدد ترجمے موجود ہیں، جن کی تعداد تقریباً 52 تک پہنچتی ہے۔
زیر نظر قرآن کریم کا فارسی ترجمہ قدوة الکبراء غوث العالم سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کا تحریر کردہ ہے۔ قدوۃ الکبراء نے 727 میں اپنے زمانہ سلطنت میں قرآن کریم کا نسخہ اپنے ہاتھ سے تحریر کیا اور اس کا فارسی ترجمہ بھی کیا۔ اس ترجمے کی خصوصیت یہ ہے کہ قرآن کریم کے مقتضیات و احوال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر لفظ کا ترجمہ راجح تفسیر کے بنا پر کیا گیا ہے، تاکہ قرآن کی روح اور مفہوم برقرار رہیں۔
عربی زبان کے مقابلے میں فارسی زبان کے دامن کے تنگ ہونے کے باوجود فارسی ترجمے کو عربی عبارت سے ہم آہنگ کرنا مخدوم اشرف کے علم و معرفت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ قرآن کریم کا یہ فارسی ترجمہ دوسرے تراجم کے درمیان جدت طرازی، ندرت بیانی، اور مفہوم کی ادائیگی کے اعتبار سے ممتاز ہے۔
فارسی زبان اپنی چاشنی اور شیریں بیانی کے باوجود لوگوں میں غیر مانوس ہوتی جا رہی ہے۔ مدارس اسلامیہ کے فارغین بھی اس کے چند الفاظ اور جملوں سے آگاہ ہو پاتے ہیں۔ لہٰذا، مخدوم اشرف رحمۃ اللہ علیہ کے اس فارسی ترجمے سے استفادہ کو عام بنانے کے لیے اردو ترجمہ کی ضرورت محسوس ہوئی۔
اس عظیم کام کے لیے ایک ایسے عالم دین کی تلاش تھی جو فارسی، عربی، اور اردو تینوں زبانوں کا ماہر ہو۔ میری نظر انتخاب مولانا سید محم ممتاز اشرفی پر پڑی اور انہوں نے میری خواہش کو قبول کیا اور ترجمہ کا کام شروع کر دیا۔ جب انہوں نے مکمل ترجمہ میرے سامنے پیش کیا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔
مولانا سید محمد ممتاز اشرفی کا تحریر کردہ اردو ترجمہ سلیس اور آسان ہے، اور فارسی ترجمے کے مزاج، انداز بیان، اور تعبیر سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ گویا کہ اردو ترجمہ کو فارسی ترجمے کے مطابق کیا گیا ہے۔
قدوة الکبراء غوث العالم سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کا تحریر کردہ فارسی ترجمہ مدینہ منورہ میں حرم شریف کے قریب کسی مکان میں موجود تھا۔ جب حرم شریف کی توسیع ہوئی تو یہ قرآن شریف فارسی ترجمہ کے ساتھ جناب محمد علی صاحب مہاجر مدنی کو ملا اور ان سے ڈاکٹر سید مظاہر اشرف اشرفی جیلانی کو ملا۔
اس نسخے میں فارسی عبارت بعض جگہ چھوٹ گئی ہے، اور کہیں کہیں الفاظ کے رسم الخط اور نقطے میں تبدیلی واقع ہو گئی ہے۔ قیاس اور قرینہ کا سہارا لے کر چھوٹے ہوئے الفاظ کا اضافہ اور رسم الخط و نقطے کی تبدیلی کی جا سکتی تھی، لیکن ایسا کرنا ایک قسم کی تحریف ہوگی۔ لہٰذا، قدوۃ الکبراء غوث العالم سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کے تحریر کردہ فارسی ترجمہ کو بعینہ عوام کے سامنے پیش کرنے کی غرض سے بغیر ترمیم و اضافہ کے کمپوز کیا گیا ہے۔
قرآن کریم سے ہر مسلمان کو کسی نہ کسی زاویے سے لگاؤ ہوتا ہے۔ اس لگاؤ کو مزید بڑھانے اور مخدومی ترجمہ کے بعض مقامات کی وضاحت کی غرض سے جو غیر لکھی گئی ہے، وہ بھی اپنی جامعیت کے اعتبار سے قابل تحسین ہے۔ یہ تفسیر مستند کتب تفاسیر، کتب احادیث، اور دیگر قابل اعتبار کتابوں کا بہترین خلاصہ ہے۔
مولانا سید محمد ممتاز اشرفی پاکستان کے ایک ذی استعداد باعمل عالم دین ہیں اور دار العلوم اشرفیہ رضویہ اورنگی ٹاؤن کراچی میں درس و تدریس کا کام انجام دے رہے ہیں۔ تدریس کے ساتھ تصنیف و تالیف بھی ان کا مشغلہ ہے اور ان کی متعدد کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے علم و عمر میں برکتیں عطا فرمائے اور ان کی دینی و علمی کوشش کو شرف قبولیت بخشے۔