Riwayat Ul Nahw Urdu Sharah Hidayat Ul Nahw روایۃ النحو اردو شرح ہدایۃ النحو

روایۃ النحو اردو شرح ہدایۃ النحو

Riwayat Ul Nahw Urdu Sharah Hidayat Ul Nahw by Maulana Abd ur Rab

PDF Viewer

نام کتاب :روایۃ النحو اردو شرح ہدایۃ النحو

مصنف: مولانا عبدالرب
زبان: اردو

موضوع:  علم النحو

ناشر: زم  زم پبلشرز

خصوصیات

زیر نظر کتاب ” روایت النحو یہ نحو کی مشہور کتاب “ہدایۃ النحو ” کی جامع شرح ہے ہدایۃ النحو کی اہمیت کسی سے مخفی نہیں کہ عرصہ دراز سے درس نظامی میں شامل درس ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر بہت سے علماء نے اس کی مختلف شروحات لکھی ہیں۔ روایت النحو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں بڑے عمدہ اور آسان انداز میں ہدایت النحو کی عبارت کو حل کیا گیا ہے۔ اب روایت النحو ” کا جدید ایڈیشن آپ کے سامنے ہے جسے زمزم پیلی اور کراچی نے اس کی از سر نو کمپوزنگ کروا کر کچھ خصوصیات و خوبیوں کے اضافے کے ساتھ طلباء اور علماء کی خدمت میں پیش کیا ہے تا کہ اس سے استفادہ کرنا مزید آسان ہو جائے اور اس کا نفع عام ہو

جائے۔

موجودہ زمانہ کے تقاضوں کے مطابق پوری کتاب کی کمپوزنگ کرائی گئی ہے۔

اس ایڈیشن میں متن کے بامحاورہ وسلیس اردو ترجمہ کا اہتمام کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ نسخوں میں متن کا ترجمہ نہیں کیا گیا ہے۔

ہر متن کے ساتھ اس کا ترجمہ اور ساتھ ہی اس متن سے متعلق تشریح ذکر کرنے کا اہتمام کیا

گیا ہے۔

گزشتہ نسخوں میں جو املاء کی غلطی تھی حتی الوسع ان کو درست کیا گیا ہے۔ نوں میں الو ای لاویان کیا گیا

اردو عبارت کو خط نستعلیق (اردو مخط) میں اور عربی عبارت کو خط نسخ (عربی مخط) میں لکھنے کا

اہتمام کیا گیا ہے۔

6. گزشتہ نسخوں میں عبارت نہایت پیچیدہ اور چھوٹے رسم الخط میں تھی اس ایڈیشن میں عبارت صاف، واضح اور عمدہ پیرائے میں لکھی گئی ہے اور ہر ہر تشریح کو نئے پیرا گراف سے شروع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔

خلاصہ یہ کہ ان اضافوں کے ساتھ اس کتاب سے استفادہ کو مزید آسان بنایا گیا ہے۔ اُمید ہے کہ زمزم پبلشرز کراچی کی اس خدمت کو علماء وطلباء حضرات پسندیدگی کی نظر سے دیکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہماری ان کوششوں کو قبول فرمائیں!

آمین

صاحب ہدایۃ النحو کےحالات

تعارف: عارف کبیر شیخ سراج الدین عثمان چشتی نظامی معروف باخی سراج اودھی، دین حق کے نیر تاباں حضرت سلطان المشائخ نظام الدین محمد بدایونی دہلوی کے نمائندے شیخ نصیر الدین چراغ دہلوی شیخ عبدالحق پنڈوی، شیخ وجیہ الدین یوسف، شیخ یعقوب، شیخ مغیث، شیخ برہان الدین وغیرہ حضرات جو سرزمین ہند کے مختلف علاقوں میں بکھرے ہوئے تھے انہیں میں سے ایک آپ بھی ہیں۔

ابتدائی حالات: شیخ سراج الدین بالکل نو عمری میں حضرت نظام الدین محمد بدایونی کی خانقاہ میں آکر شریک ہو گئے تھے اور عنفوان شباب میں علوم ظاہری سے قطعاً نا آشنا تھے۔ البتہ علم کا شوق ضرور رکھتے تھے کیونکہ میر خورد نے لکھا ہے کہ جب یہ دہلی پہنچے تو کاغذ و کتاب خود که جز آں دیگر رختے نداشت – کتاب اور کاغذ کے سوا کوئی دوسرا سامان ان کے پاس نہ تھا۔ لیکن خانقاہ میں پہنچ کر واردین و صادرین کی خدمت میں کچھ اس طرح مشغول ہوئے کہ لکھنے پڑھنے کا موقعہ ن دل سکا۔

آغاز تعلیم: میر خورد لکھتے ہیں کہ جس وقت ہندوستان کے مختلف اقطار و جہات میں حضرت سلطان المشائخ نے چاہا کہ اپنے نمائندوں کو روانہ کریں تو قدرتاَ بنگال کے لئے انہی کی طرف خیال جا سکتا تھا کہ ”مَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہ نہیں بھیجا ہم نے کسی رسول کو لیکن اس کی قوم کی زبان کے ساتھ ) لیکن جب یہ محسوس ہوا کہ انہوں نے علوم ظاہری کی تکمیل نہیں کی تو فرمایا۔ اول درجہ دور میں کار علم است۔ نیز فرمایا کہ جاہل آدمی شیطان کا کھلونا ہوتا ہے کہ شیطان جس طرح چاہے اس سے کھیلتا رہتا ہے۔ حضرت مولانا فخر الدین زرادی بھی مجلس میں تشریف فرما تھے انہوں نے عرض کیا: درشش ماہ اور دانشمند میکنم ۔ میں ان کو چھ ماہ میں مولوی بنا دوں گا۔

تعلیم صرف: چنانچہ حضرت مولانا فخر الدین زادی نے غیاث پور میں شیخ سراج کی تعلیم شروع کی آپ کو جو کتابیں پڑھائی گئیں ان میں میر خورد بھی شریک تھے۔ انہوں نے ان کتابوں کی جو فہرست دی ہے وہ یہ ہے۔ الغرض خدمت مولانا سراج الدین در کبرسن تعلیم کرد و برابر کا تب حروف (میر خورد) در آغاز تعلیم میزان و تصریف و قواعد و مقدمات او تحقیق کرد. کافی عمر ہو جانے کے بعد مولانا سراج الدین کی تعلیم شروع کی۔ کاتب الحروف برابر آغاز تعلیم میزان اور گردان وغیرہ کے قواعد سے ساتھ تھا اور پڑھتا تھا۔

مولانا فخر الدین کا جو وعدہ شش ماہ کا تھا اس کے لئے خود ان کو بھی کام کرنا پڑا۔ میر خورد نے لکھا ہے کہ مولانا فخر الدین بہت او تصریفے مختصر و مفصل تصنیف کر دو اور اعثمانی نام نہاد ۔۔ مولانا فخر الدین نے ان کے واسطے مختصر و مفصل گردان کی ایک کتاب تصنیف کی جس کا نام عثمانی رکھا۔

غالباً یہ وہی کتاب ہے جو عربی مدارس میں اس وقت تک زرادی“ کے نام سے مشہور ہے۔

 تعلیم نحو وفقہ: صرف کی تعلیم کے بعد عثمان سراج نے شیخ رکن الدین اندر پتی سے فقہ نحو کی تحصیل کی ان میں جو کتابیں ہیں آپ کو پڑھائی گئیں ان کے متعلق میر خور در قمطراز ہیں کہ:

پیش مولا نارکن الدین اندر پتی کا تب حروف کا فیہ و مفصل و قدوری و مجمع البحرین تحقیق کر دو مرتبه

افادت رسید. (از مفتاح السعادة ، ابن خلکان، کشف الظنون، شاندار ماضی، ابجد العلوم و غیره ۱۳) کاتب حروف ہمیشہ مولا نا رکن الدین اندر پتی سے کافیہ مفصل، قدوری اور مجمع البحرین پڑھتارہا اور افادہ کے لائق ہوا۔ صاحب خزینۃ الاصفیاء نے لکھا ہے کہ آپ چھ ماہ کی مدت میں اس رتبہ پر پہنچ گئے تھے کہ کسی دانشمند کو آپ کے ساتھ بحث و مباحثہ کی مجال نہ تھی۔

عطاء خرقہ خلافت: جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ابتداء میں آپ علم ظاہر سے بے بہرہ تھے اسی وجہ سے شیخ فرید شکر گنج نے عطاء فرقہ خلافت حصول علم ظاہر پر موقوف فرمایا۔ آپ عرصہ چور ماہ میں تحصیل و تحقیق علم ظاہر کر کے مرتبہ تکمیل کو پہنچے۔ ہنوز علم ظاہر سے فراغت نہ پائی تھی کہ شیخ فرید شکر گنج نے انتقال فرمایا اور وقت انتقال سلطان المشائخ سے ارشاد عطاء خرقہ خلافت فرما گئے بعد اکتساب علم ظاہری بروایت اخبار الخیار تین برس کامل سلطان المشائخ سے تعلیم پائی و بحصول خرقہ خلافت و اجازت بمقام کو مشہور بہ لکھنوتی تشریف لائے اور شاہ علاء الحق پنڈوی وزیر بادشاہ بنگال کو اپنا مرید و خلیفہ اور جانشین مقررفرمایا۔

اخی سراج اور خدمت دین : آج بنگال کے تین کروڑ سے زائد مسلمانوں کو ناز ہے کہ اتنی بڑی آبادی کسی خالص اسلامی واحد ملک کی بھی نہیں ہے لیکن غریب الدیار اسلام نے جب اس ملک میں قدم رکھا تو لوگوں کو کیا معلوم کہ اس کی پاکی کو کندھا دینے والے کون کون لوگ تھے۔ ایک لڑکا ہنوز موئے ریش آغاز نه شده بود درحلقہ ارادت شیخ در آمده بود و در سلک خدمتگاران پرورش یافته – ابھی سبزہ بھی نہ آیا تھا کہ شیخ کے ارادت مندوں میں داخل ہو چکے تھے اور خدمتکاروں سے منسلک ہو کر

پرورش پانے لگے تھے۔

زمره ایران مسلک خدمت گاروں میں اس پرورش پانے والے لڑکے کا نام بعد کو اخی سراج الدین عثمان ہوا۔ جس نے نظام الاولیاء کی خانقاہ سے نکل کر سارے بنگال میں آگ لگادی۔ ایمان و عرفان کا چراغ روشن کر دیا۔ پنڈوہ کے علاء الحق والدین جن کا آج سارا بنگال معتقد ہے انہی افی سراج الدین عثمان رحمتہ اللہ علیہ کے تراشیدہ

ہیں۔

وفات : آپ نے ۷۵۸ ھ میں وفات پائی۔ تاریخ وفات اس قطعہ سے ظاہر ہے۔

چوں سراج الدین شد از دنیائے دوں

 سال وصل آں شہ والا مکاں

عارف امجد سراج الدین بگو

 سالک محرم سراج الدین بخواں

تصانیف: آپ کی تصانیف میں میزان الصرف، پنچ گنج اور ہدایۃ النحو بتائی جاتی ہیں مگر جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے اس انتساب کا مدار صاحب تعداد العلوم پر ہے۔ موصوف کے حالات آئینہ، اودھ ، نزہتہ الخواطر وغیرہ بہت سی کتابوں میں مذکور ہیں لیکن کسی نے ان کی کوئی تصنیف ذکر نہیں کی (از آئینہ اودھ، نزہۃ الخواطر، اخبار الاخیار . خزینۃ الاصفیاء، نظام تعلیم وتربیت، انوارالعارفین ) واللہ اعلم۔

شروح و حواشی بدلية النحو: 1.دراية النحو 2.مصباح النحو- از مولانا افتخار علی صاحب 3.کفایت، النحو (اردو) از مولانا محمد حیات صاحب سنبھلی 4.شرح ہدایۃ النحو از سید علی جعفر الہ آبادی متوفی ۱۲۳۹ھ۔

Leave a Reply