مولانا سلطان غنی عارف طاہری بن عبد العلی ۔ آپ موضع کوئی برمول، تحصیل کا ٹنگ ضلع مردان میں ۱۹۵۰ء کو پیدا ہوۓ ۔ پرائمری اور مڈل تک عصری تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی ۔آٹھویں جماعت کے بعد آپ میٹرک کے لئے کاٹلنگ چلے گئے اور وہاں سے میٹرک پاس کیا۔ مولانا عبدالحلیم، خائسته گل عرف مته ملا عبدالجمیل، افضل خان عرف شیخ شاہ پور مولا نا بوستان محمد ادریس عرف شیخ چکیسری ،خونہ گل کیمبل پور، انذرگل عرف شنکرے آپ کے اساتذہ تھے۔ مولا نا عبدالعلیم آپ کے پہلے استاذ تھے اس کے بعد آپ نے ۱۹۶۴ء میں متہ میں مولا نا شائستہ گل عرف متہ ملا سے بعض اسباق پڑھیں ۔ پھر فیصل آباد چلے گئے اور دار العلوم اشاعت العلوم کے مہتم مولا نا سیاح الدین کاکاخیل (جن کا تعلق جماعت اسلامی کے ذیلی تنظیم اتحاد العلماء سے تھا) کے ہاں داخلہ لیا ۔ وہاں کے اساتذ مولا فتح الجمیل، درگئی مولانا صاحب اور ہندوستانی علماء سے کتابیں پڑھیں ۔ پھر ٹو بہ ٹیک سنگھ کے علاقہ فلور میں واقع مدرسہ جامعہ ربانیہ میں ایک سال گزارا۔ پھر اپنے گاؤں چلے آۓ لیکن جلد ہی چار باغ سوات چلے گئے اورحصول تعلیم میں تین سال گزارے۔ اس کے بعد شاہ پور چلے گئے بعدازاں شیخ القرآن مولا نا غلام اللہ خان سے راولپنڈی میں تفسیر قرآن پڑھا۔ بعد ازاں پنچ پیر جا کر شیخ القرآن مولا نا محمد طاہر پنج پیری سے دس سال تک تفسیر قرآن پڑھا۔ آپ پیر طریقت سید عنایت اللہ شاہ صاحب بخاری سے بیعت تھے ان سے پہلے آپ نصیر الدین غورغوشتوی سے بھی بیعت تھے ۔ ۱۹۸۰ء میں آپ نے سعادت حج حاصل کی ۔حیدرآ بادسندھ ، کراچی اور رستم میں تدریسی فرائض انجام دے ۔ پھر خرابی معیشت نے مزدوری پر مجبور کیا اور آپ سعودی عرب چلے گئے ریاض میں شیخ عدنان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے آپ کو تخریج حدیث کے کام پر لگا دیا اور کافی عرصہ تک تخریج حدیث کا کام کیا۔ غیر مقلدین کے سخت مخالف تھے، مشہور غیر مقلد عمر خطاب سے ان کا تاریخی مناظرہ بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ آپ کے چھ بیٹے ہیں، جن کے نام رشید احمد ، محمد طاہر ،عنایت اللہ شاہ ، حسین علی ، ضیاءاللہ شاہ اور سلمان فارسی ہیں ۔ آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں: دودھ کا دودھ پانی کا پانی روئیداد مناظر و سپین کانی تبین الحقیقت مولانا نصیر الدین غورغشوتوی سے منسوب فتوی کا جواب تحقیق الحق یہ کتاب منہ ملا کے اعتقادات و بدعات کی رو میں ہے صيانة الـمـسـتـهـدى عـن وسـوسـة بـن شـنـدی [ یہ کتاب مولانا خان بادشاہ بن شندی گل کی کتاب کا جواب ہے ، رسائل صحیح مسائل، ردمحاکمه ،نظم المرجان یعنی تفسیر بطرز امام عبیداللہ سندھی ،ايهـا الـمـسـلـمـون في مشارق الارض و مغاربها ،من ادرك الـركـوع فـقد ادرك الركعة . البرهان الجلي في حيات النبي ، الجواهر العارفيه في رسائل اختلافيه ، مناهل العرفان في اصول القرآن چمنستان اشاعت التوحید والسنۃ از مولانا حبیب اللہ مختار : ۲۰۵ ،مولا نا محمد طاہر اور ان کی قرآنی تحریک : ۲۸۵ ،سوانح حیات مولا نا محمد رفیق تنار از ابوعر و وفرخ سیر صفحہ :۱۲۹ ، ماہنامہ اشاعت التوحید والسنۃ پنج پیر صوابی جلد : ۱۳ شماره ۱۴ ربیع الثانی ۱۴۳۱ ھ = اپریل ۲۰۱۰ ، صفحات : ۳۷ تا ۴۰ ]





