Sufrat ul Waizeen by Mufti Muhammad Adil Usmani
کتاب : سفرۃ الواعظین
موضوع : مجموعہ مواعظ و خطبات
زبان: پشتو
تالیف:مفتی محمدعادل عثمانی
ناشر: مکتبۃ عثمانیہ راندیرسورت
مجموعہ مواعظ و خطبات کا تعارف
اسلامی تعلیمات کے مؤثر ابلاغ اور روحانی تربیت کے لیے مواعظ اور خطبات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ یہ فن عوام الناس کے دلوں میں ایمان، تقویٰ، اصلاح، اور اعمال صالحہ کا چراغ روشن کرتا ہے۔ مواعظِ حسنہ انبیاء کرام، صحابہ کرام اور سلف صالحین کا بہترین اسلوب رہا ہے۔
فن مواعظ و خطبات کی اہمیت
اسلامی معاشرے کی اصلاح میں مواعظ اور خطبات کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ جمعہ کے خطبات، رمضان کی مجالس، اور دیگر مناسبات پر دیے گئے وعظ و نصیحت دلوں کو نرم کرتے اور برائی سے روکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سفرۃ الواعظین جیسی کتابیں آج بھی وقت کی ضرورت اور طلب ہیں۔
مصنف کا تعارف
مفتی محمد عادل عثمانی دارالعلوم دیوبند کے فاضل، ماہرِ افتاء، مؤثر خطیب اور پختہ قلم کار ہیں۔ آپ نے اسلامی موضوعات پر کئی علمی و اصلاحی کتابیں تحریر کی ہیں۔ آپ کے بیانات میں عقیدہ و عمل کی اصلاح، سلف کی روشنی اور دعوت کی تاثیر نمایاں نظر آتی ہے۔ سفرۃ الواعظین ان کا ایک عظیم وعظی شاہکار ہے۔
کتاب کی خصوصیات
سادہ زبان میں پر تاثیر مواعظ
سفرۃ الواعظین کے خطبات عام فہم، سادہ، مگر انتہائی پر اثر انداز میں بیان کیے گئے ہیں، جو ہر سطح کے سامعین کے دلوں میں اتر جاتے ہیں۔
موقع محل کے مطابق ترتیب
کتاب میں مختلف مواقع (جمعہ، رمضان، شب قدر، عید، شادی، جنازہ وغیرہ) سے متعلق خطبات شامل ہیں، جنہیں ترتیب وار پیش کیا گیا ہے۔
قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں
ہر وعظ قرآن و سنت سے مزین ہے، اور مصنف نے آیات و احادیث کی عمدہ تشریح پیش کی ہے۔
علمی اور اصلاحی امتزاج
یہ کتاب علمی نکتہ نظر کے ساتھ اصلاحی جذبات کی بھی بھرپور نمائندگی کرتی ہے، جس سے خطبہ محض معلوماتی نہیں، بلکہ تربیتی بن جاتا ہے۔
کتاب کا تعارف
سفرۃ الواعظین ایک ایسا بیش قیمت مجموعہ ہے جو مفتی محمد عادل عثمانی کے منتخب خطبات اور مواعظ پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں آپ کو ایمان افروز، اصلاحی، معاشرتی اور دعوتی خطبات ملیں گے جو ہر واعظ، خطیب اور طالب علم کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ سفرۃ الواعظین مدارس، مساجد، اور دعوتی مراکز کے لیے ایک نایاب تحفہ ہے۔
کتاب کی اہمیت
علماء اور خطباء کے لیے ایک مکمل ذخیرہ
سفرۃ الواعظین ان حضرات کے لیے اہم ہے جو مجمع عام سے مخاطب ہوتے ہیں۔ یہ کتاب ہر خطیب کے لیے موضوعات، اسلوب، حوالہ جات اور ترتیب کا خزانہ ہے۔
تبلیغی حلقوں کے لیے قیمتی مواد
تبلیغی جماعت، اصلاحی نشستوں اور دینی دروس کے لیے سفرۃ الواعظین نہایت مفید ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اس میں اخلاص، اثر اور فہم سب موجود ہیں۔
کتاب کے فوائد: طلباء، علماء اور عوام کے لیے
طلباء کے لیے دعوت و بیان کی تربیت
طلباء کے لیے یہ کتاب نہ صرف مطالعے کی بلکہ وعظ کی تربیت کے لیے بھی مفید ہے۔ ہر خطبہ ایک نمونہ ہے کہ کیسے دین کو سنجیدہ انداز میں پیش کیا جائے۔
علماء و ائمہ کے لیے رہنمائی کا ذخیرہ
آئندہ جمعہ کے خطبہ کے لیے موضوع درکار ہو؟ سفرۃ الواعظین کھولیں اور موقع کی مناسبت سے بہترین مواد حاصل کریں۔
عوام کے لیے روحانی غذا
ہر مسلمان کو وقتاً فوقتاً اصلاحی نصیحت کی ضرورت ہوتی ہے۔ سفرۃ الواعظین ایسی کتاب ہے جو ہر گھر کی ضرورت بن سکتی ہے۔
خلاصہ
اگر آپ ایک ایسی کتاب کی تلاش میں ہیں جو مؤثر اور اصلاحی خطبات پر مشتمل ہو، تو سفرۃ الواعظین آپ کے لیے بہترین انتخاب ہے۔ سفرۃ الواعظین نہ صرف علماء و خطباء بلکہ عام افراد کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ سفرۃ الواعظین کا مطالعہ روح کو جِلا اور دل کو ایمان بخشتا ہے۔ آج ہی سفرۃ الواعظین ڈاؤن لوڈ کریں اور اصلاحِ نفس کا آغاز کریں۔ سفرۃ الواعظین ایک ایسی کتاب ہے جو آپ کے بیانات کو مضبوط، بااثر اور دلنشین بنا دے گی۔
درس کی تیاری کیسے کریں ؟
تحریر اور تقریر دعوت کے دومؤثر ذرائع ہیں ۔ علمائے کرام کو چونکہ حق جل مجدہ نے حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کا وارث بنا کر مبعوث فرمایا ہے، اس لیے انھیں ان دونوں ذرائع میں مہارت کا حصول اُن کے فرائض منصبی کا تقاضا ہے۔
راقم آم کو پچھلے بارہ سال سے حضرت قبلہ والد ماجد نور اللہ مرقدہ کی جگہ رمضان المبارک میں بعد نماز تراویح درس قرآن معہ اصلاحی مواعظ کا موقع بفضلہ تعالیٰ مل رہا ہے۔ حضرت والد محترم کا انداز یہی تھا کہ جو سوا پارہ تراویح میں پڑھا گیا اسی میں سے ایک یا چند آیات کا انتخاب فرماتے اور پھر اس کے ضمن میں اس کی تفسیر اور متعلقہ اصلاحی امور بھی ارشاد فرماتے تھے ۔ احقر نے بھی اسی سلسلے کو جاری رکھا ہے، حق تعالیٰ اخلاص و عافیت کے ساتھ اس
کو جاری رکھیں ( آمین ) اس سلسلے میں جوا ہم کام ہے وہ یہ ہے کہ موضوعاتی درس قرآن کی تیاری کیسے کریں؟ اپنی ناقص رائے اور کوتاہ علمی کے مطابق چند گزارشات پیش خدمت ہے، جن کے ذریعے اس
کام میں آسانی فراہم ہوسکتی ہیں۔
موضوع کا انتخاب
سب سے پہلا اور اہم کام ہے موضوع کا انتخاب۔ اس سلسلے میں چار باتیں ہیں۔
- موضوع زندہ ہو یعنی وقت کی ضرورت کے مناسب ہو ۔ مثلاً ”ہماری پریشانیوں کے اسباب اور علاج “ یہ موجودہ دور کا ایک زندہ موضوع ہے۔ موضوع مردہ نہ ہو یعنی جس کی ضرورت نہ ہو اس کو منتخب نہ کیا جائے ۔ مثلاً خوارج اور معتزلہ کے عقائد اس کی فی زماننا عوام کو سمجھانے کی کیا ضرورت ہے؟
- موضوع عملی ہو یعنی اس کی عملی افادیت ہو، جس کے ذریعے سے معاشرے میں موجود برائیوں کا خاتمہ ہو سکے ۔ مثلاً ” صلہ رحمی یہ ایک ایسا موضوع ہو جو معاشرے میں رائج بہت سی خرابیوں کو دور کر کے جہاں تو ڑ ہو وہاں جوڑ پیدا کر سکتا ہے۔ موضوع نظری نہ ہو یعنی جس کی عملی افادیت نہ ہو۔
- موضوع ایسا ہو کہ جو تعمیر سیرت و اخلاق کا ذریعہ ہو ۔ مثلاً اطاعت رسول مسالہ ایم ایک ایسا موضوع ہو جو تعمیر سیرت و اخلاق میں اہم رول ادا کرتا ہے ۔موضوع تخر یہی نہ ہو ۔مثلاً صفات الہیہ“ کو موضوع نہ بنایا جائے۔
- موضوع قدیم بھی ہوسکتا ہے اور جدید بھی ۔ مثلاً ”امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یہ ایسا موضوع ہے کہ ہر دور میں اس کی افادیت عام رہی ہے۔
منتخب آیات و احادیث کی جستجو
موضوع کے انتخاب کے بعد دوسرا اہم مرحلہ ہے موضوع سے متعلقہ منتخب آیات و
احادیث کو تلاش کرنا۔
- سب سے پہلے آیات کو تلاش کر کے اس کو نوٹ کر لیں۔
- موضوع سے متعلقہ احادیث کو تلاش کر کے نوٹ کر لیں۔
احقر کی ناقص رائے میں احادیث کا انتخاب کرنے میں حضرت امام نووی رای نمایہ کی مشہور کتاب ریاض الصالحین‘لا جواب ہے۔
مذکورہ دونوں کاموں کے لیے مختلف سافٹ ویر کی بھی مدد لی جاسکتی ہے ۔ مثلاً تقویٰ کی اہمیت اور اس کے فوائد اس موضوع پر قرآنی آیات اور سید الکونین مسایل ایم کی احادیث بھری پڑی ہیں۔ ان کو جمع کر کے نوٹ کر لیا جائیں۔
مختلف کتابوں سے مراجعت
تیسرا مرحلہ ہے موضوع سے متعلقہ مختلف کتب سے مراجعت ۔ جس موضوع کا انتخاب کیا ہے اور اس میں جس آیت کو بنیاد بنایا ہے اس سے متعلقہ کتب تفسیر مثلاً معارف القرآن ( حضرت مفتی محمد شفیع صاحب عثمانی را مایه ) ، معارف القرآن (حضرت مولانا ادریس صاحب کاندھلوی دایملیہ ) تفسیر انوار البیان ( حضرت مولانا عاشق الہی صاحب ایشمایہ ) تفسیر ہدایت القرآن ( حضرت مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری ریشمالیہ ) وغیرہ۔
اور خطبات کے سلسلے میں خطبات حکیم الامت (حضرت تھانوی ریاییمایہ ) ، اصلاحی خطبات ( مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم ) ، حدیث کے اصلاحی مضامین (حضرت مفتی احمد صاحب خانپوری دامت بر کاتہم) ، ایک جامع قرآنی وعظ ، اللہ سے شرم کیجئے ، رحمن کے خاص بندے ( حضرت مفتی سلمان صاحب منصور پوری دامت برکاتہم) انوار ہدایت ، انوار نبوت، انوار رسالت ( مفتی شبیر صاحب قاسمی مرادابادی دامت بر کاتہم) یہ تمام کتب
مستند و معتمد علیہ ہیں۔
تنقیح و ترتیب
- مواد کی فراہمی کے بعد چوتھا اہم ترین مرحلہ ہے مواد کی تنقیح وترتیب ۔ جس میں درج
ذیل باتوں کا خیال رکھا جائیں۔
- سب سے پہلے ایک تمہید قائم ہو جو اپنے موضوع کے متعلق بچی تلی ہو۔
- پھر موضوع کا قدرے تعارف ہو۔ مثلاً ” تو بہ کا مضمون ہے تو تو بہ کے معنی تعریف اور
اقسام بیان کی جائیں۔
- پھر اس کے متعلقہ آیات کو مع ترجمہ و قدرے تشریح پیش کیا جائیں۔
پھر متعلقہ احادیث کو بیان کیا جائیں۔
- موضوع سے متعلق مستند واقعات کو بھی بیان کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً ” تو بہ ہی سے متعلق صحیح روایات میں ۹۹ آدمی کے قاتل کی تو بہ کا واقعہ مذکور ہے۔
ابتدائی خاکہ
مذکور و امور کی مکمل تیاری کے بعد ابتدائی خاکہ ذہن میں رکھیں کہ کون سی چیز پہلے
بیان کرنی ہے، پھر کون سی ، اس کے بعد کون سی ۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ موضوع مرتب ہو گا اور
اکتاہٹ سے پاک ہوگا۔ یہ چند امور موضوعاتی درس قرآن کی تیاری میں نہایت مفید و مؤثر ہیں ۔حق سبحانہ و
تعالیٰ ہم سب کو زیور علم عمل و اخلاص سے آراستی فرمائیں۔ (آمین)
وعظ ونصیحت کے چھر رہنما اصول
حضرت علامہ عبدالحی صاحب کفلیوی قدس سرہ نے اپنی مشہور کتاب ”البصائر فی تذکیر العشائر میں وعظ ونصیحت کے چھ بہترین رہنما اصول بیان فرمائے ہیں، اگر اُن کی رعایت کی جائے تو یقیناً وعظ و نصیحت میں جان پڑ جائے گی ۔ افادیت کے پیش نظر انھیں اختصار کے ساتھ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔
- قرآن، حدیث اور سلف کی روایات سے واقفیت
واعظ کو چاہیے کہ قرآن مجید میں غریب الفاظ کی شرح سے واقف ہو اور مشکل تو جیہ اور اس تفسیر سے آگاہ ہو جو حضرات سلف سے منقول ہے اور ماہر ہو کتب حدیث کا تنا کہ اس کے لفظ پڑھ سکے اور معنی سمجھ سکے اور حضرات سلف کے حالات اور سیرت سے واقف ہو۔ بہت سے واعظ ایسے ہیں کہ نہ ان کو واقفیت ہے قرآن سے، نہ آگاہ ہے سنت سے، نہ صحابہ اور ان کے متبعین کی روایت ومنقولات سے ، اور انھوں نے وعظ گوئی کو محض دنیا کی کنکریاں کمانے کا آلہ بنارکھا ہے تم ان کو دیکھتے ہو کہ ایسی کتابیں لیے پھرتے ہیں موضوع حدیثوں اور جھوٹے قصوں سے لبریز ہیں اور وہ بے حیا بن کر منبروں پر جاچڑھتے اور یہ موضوعات لوگوں کو سناتے ہیں کہ لوگ اس گمان پر کہ باتیں شریعت سے ثابت ہیں اُن سے اخذ کر لیتے ہیں، پس ایسے واعظ خود بھی گمراہ ہوتے ہین اور لوگوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں سیدھے راستہ سے۔
- اپنے وعظ پر خود عمل
واعظ کو ان معصیتوں سے محتر ز ہونا لازم ہے جن سے لوگوں کو ڈراتا ہے اور ان
طاعتوں کا پابند ہونا لازم ہے جس کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے، کیونکہ جس سے منع کرتا ہے اگر خود اس سے باز نہ رہا اور جو کہتا ہے خود اس پر عامل نہ ہو تو مبغوض خدا قرار پائے گا۔
- نرم گفتاری
ارشاد فرمایا:
واعظ کو نرم گفتار ہونا چاہیے۔ حق تعالیٰ نے اپنے محبوب سرور دو عالم سائینی ایم کے متعلق
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمْ ، وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانُفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ﴾ [النساء:۱۵۹]
اللہ کی رحمت سے تم لوگوں کے لیے نرم بنے ہو ، اور اگر کہیں سخت دل ہوتے تو یہ لوگ
آپ کے پاس سے بھاگ جاتے ۔اسی طرح حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو جب
فرعون کے پاس بھیجا دعوت ایمان دینے کے لیے تو فرمایا:
فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيْنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى ﴾ [طه:۳۴]
تم دونوں اس سے نرمی سے بات کہنا ، شاید وہ نصیحت قبول کر لے یا ڈر جائے۔
- تعلقات میں کمی
واعظ کو چاہیے کہ تعلقات کو کم کرے تا کہ زیادہ خوف نہ ہو اور مخلوق سے طمع کو قطع کر
دینا چاہیے تا کہ مداہنت و چشم پوشی جاتی رہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام اپنی امتوں سے طمع کی رسیاں قطع کر کے یوں فرماتے تھے
وَمَا أَسْتَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِى إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَلَمِينَ)
میں تم سے تبلیغ پر کوئی معاوضہ نہیں چاہتا ، بس میر ا معاوضہ تو اس کے ذمے ہے جو
پالنے والا ہے سارے جہاں کا۔
- ترغیب و ترہیب کا سنگم
وعظ کو صرف ترغیب یا صرف تخویف ہی کے ساتھ مخصوص نہ کریں، بلکہ مخلوط کریں کہ ترغیب بھی ہو اور ترہیب بھی ۔ حق تعالیٰ کی عادت بھی یہی ہے کہ وعدہ کے ساتھ وعید ہے اور
بشارت کے ساتھ انذار ہے۔
- نصیحت جاری رکھیں
واعظ کو چاہیے کہ حاجت اور ضرورت کے موافق نصیحت کرتار ہے اور آزا دو بیکار نہ چھوڑے کہ حد و دو شریعت سے غافل نہ ہو جائے ، مگر اتنا کثیر وعظ نہ ہو کہ گھبرا جانے کا اندیشہ واقعی ! یہ چھ اصول بہت ہی اہم ہیں، اور ان میں واعظین کے لیے زریں ہدایات ہیں۔ حق تعالیٰ ان پر عمل کی توفیق نصیب فرمائیں۔ (آمین) وصلى الله على النبي الكريم
1.جو بڑا پیراگراف/جملے آپ کو دیا اس کو مختلف متعدد پیراگرافوں میں تقسیم کرو
2.اور ہر پیراگراف/جملے کو مناسب ہیڈنگ اور عنوان دو
3. اور ان پیرا گرافوں/جملوں کو خوبصورت ترتیب دو
4.اس پیرا گراف/جملوں کے الفاظ کو کم مت کرو یاد رہے کہ آپ کو صرف مناسب ہیڈینگز اور عنوان دینا اور خوبصورت ترتیب دینا ہے جتنے الفاظ دیے ہیں ان میں کمی اور اختصار نہیں کرنا