Tablighi Jamaat Arab o Ajam k Aine mein by Molana Muhammad Khalid Hanafi
کتاب : تبلیغی جماعت عرب وعجم کے آئینے میں
مصنف: مولانا محمد خالد حنفی
زبان: اردو
موضوع: تبلیغی جماعت پر اعتراضات کے مدلل اور مفصل جوابات
ناشر: مکتبۃ حنفیہ
تبلیغی جماعت کی تعریف
تبلیغی جماعت ایک ایسی عالمی دینی تحریک ہے جو عام مسلمانوں کو دین اسلام کی بنیادی تعلیمات سکھانے، ان میں عمل کی رغبت پیدا کرنے اور دعوت و اصلاح کا جذبہ بیدار کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔
یہ جماعت بغیر کسی فرقہ بندی، سیاست، مناظرہ یا مخالفت کے صرف اللہ اور رسول ﷺ کے دین کو زندہ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
تبلیغی جماعت کی تاریخ
قیام
تبلیغی جماعت کا قیام 1926ء میں ہندوستان کے صوبہ میوات (ضلع ہریانہ) میں عمل میں آیا۔
وجہ قیام
اس وقت میوات کے علاقے میں جہالت، بدعت، شرک، بے دینی، اور دینی بیزاری عام تھی۔ مسلمان نام کے تو تھے لیکن اسلامی تعلیمات، نماز، طہارت، حلال و حرام سے ناواقف تھے۔ اس پس منظر میں ایک درد مند عالم نے دین کی طرف بلانے کا فیصلہ کیا۔
بانیٔ تبلیغی جماعت
حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ (1885 – 1944)
- حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ، دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور مشہور ولی اللہ تھے۔
- ان کا تعلق علم و تقویٰ کے گھرانے سے تھا، ان کے والد اور بھائی بھی مشہور عالم دین تھے۔
- حضرت مولانا الیاسؒ نے “دعوت و تبلیغ” کے کام کو ایک منظم دینی تحریک کی صورت دی۔
- ان کا مشہور جملہ تھا:
“مجھے زندہ مسلمانوں کی تلاش ہے
تبلیغی جماعت کے بنیادی اہداف
تبلیغی جماعت کے اہداف کو “چھ نمبر” یا “چھ صفات” میں سمیٹا گیا ہے
کلمۂ طیبہ کی حقیقت
- اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد ﷺ اس کے رسول ہیں۔
- توحید، رسالت، یقین، عقیدہ درست کرنا۔
نماز کی پابندی
- باجماعت نماز کا اہتمام، خشوع و خضوع کے ساتھ۔
علم دین اور ذکر الٰہی
- دینی علم سیکھنا، سیرت، فضائل، احادیث کا مطالعہ، اللہ کا ذکر کرنا۔
اکرامِ مسلم
- ہر مسلمان کی عزت کرنا، محبت سے پیش آنا، عیب چھپانا۔
اخلاص نیت
- ہر کام اللہ کے لیے، شہرت یا دنیا کے لیے نہیں۔
وقت دین کے لیے وقف کرنا (خرج فی سبیل اللہ)
- دین کے لیے وقت دینا، تبلیغی دورے، چلے، قربانی، جدوجہد۔
تبلیغی جماعت کی سرگرمیاں:
- چلہ (چالیس دن) دین کے سیکھنے کے لیے سفر
- گشت (محلہ میں دعوت)
- اجتماعات (تبلیغی سالانہ اجتماعات)
- بیانات و تعلیم
- مسجد مرکز (مساجد میں دعوت کا مرکز
تبلیغی جماعت کے اصول
- بغیر سیاست و فرقہ بندی کے کام کرنا
- مناظرہ یا اختلافی بحث میں نہ پڑنا
- ہر مسلمان کو دین کی طرف بلانا
- مدارس اور علماء کی عزت
- قرآن و سنت کی دعوت عام کرنا
عالمی پھیلاؤ
تبلیغی جماعت آج دنیا کے 200 سے زائد ممالک میں کام کر رہی ہے۔
مرکزی مرکز:
- نظام الدین مرکز دہلی (بھارت)
- رائیونڈ مرکز لاہور (پاکستان)
- ڈھاکہ مرکز (بنگلہ دیش)
- دیگر عالمی مراکز: جنوبی افریقہ، انگلینڈ، امریکہ، انڈونیشیا، سعودی عرب
خلاصہ
تبلیغی جماعت ایک پرامن دینی تحریک ہے جو عام مسلمانوں کو دین کی بنیادی باتیں سکھاتی ہے، انہیں مسجد اور عبادات سے جوڑتی ہے، اور یہ کام خلوص اور بغیر دنیاوی مفادات کے کرتی ہے۔
یہ جماعت امت کی اصلاح، اللہ سے تعلق اور آخرت کی تیاری کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے۔
تبلیغی جماعت کے بارے میں مختلف اکابرینِ دین (علمائے حق، مشائخ، اور محدثین) کی آراء دین کے اس عظیم کام کی اہمیت، افادیت اور دینی بنیادوں کو واضح کرتی ہیں۔ یہاں چند مشہور و معروف اکابرینِ امت کے اقوال پیش کیے جا رہے ہیں جنہوں نے تبلیغی جماعت کے کام کو سراہا، اس کی ضرورت کو اجاگر کیا، اور امت کو اس میں شامل ہونے کی ترغیب دی:
حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ (امیر تبلیغی جماعت)
ہماری جماعت کا مقصد صرف اللہ کا دین زندہ کرنا ہے، کسی سے مناظرہ یا مناقشہ نہیں۔ ہمیں نہ کوئی دنیاوی عہدہ چاہیے، نہ کسی فرقے سے دشمنی۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ
تبلیغی جماعت کا طریق کار اگرچہ مکمل نہ سہی، مگر اس وقت کے فتنوں میں دین کا یہ کام بڑی غنیمت ہے۔
حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ
“یہ جماعت اگرچہ غیر رسمی ہے مگر ایک ایسی دینی تحریک ہے جو لوگوں کے اندر دین کے شوق اور عمل کی فضا قائم کر رہی ہے۔“
حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ
اگرچہ تبلیغی جماعت کا طریقہ دعوت سادہ ہے، لیکن یہ دلوں کو بدلنے والا ہے، اس میں خلوص ہے، اخلاص ہے۔
حضرت مفتی محمد شفیع عثمانیؒ
تبلیغی جماعت نے دین کی جو محنت شروع کی ہے، وہ دین کا ایک اہم کام ہے، امت کو اس میں شریک ہونا چاہیے۔
حضرت مولانا منظور نعمانیؒ
“تبلیغی جماعت کا اصل پیغام، دین پر عمل اور اس کو دوسروں تک پہنچانا ہے۔ میں نے خود اس جماعت کی برکت سے بہت لوگوں کو بدلتے دیکھا ہے
حضرت مولانا عبدالحئی عارفیؒ
تبلیغی جماعت کے ذریعے بہت سے لوگوں نے دین سیکھا، نماز شروع کی، اور اپنی زندگی کو بدل ڈالا۔ یہ ایک عظیم خدمت ہے۔
حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم
تبلیغی جماعت نے لاکھوں لوگوں کو اللہ کی طرف رجوع کرایا ہے۔ اگرچہ ہر نظام میں خامیاں ہوتی ہیں، مگر یہ جماعت مجموعی طور پر خیر پر ہے۔
شیخ الاسلام حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
تبلیغی جماعت نے دین کو عام کرنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ بہت سے علما اور عوام اس کے ذریعے دین کی طرف واپس لوٹے ہیں
حضرت مولانا طارق جمیل دامت برکاتہم
“میں نے اپنی زندگی کی تبدیلی کا آغاز تبلیغی جماعت سے کیا۔ یہی جماعت ہے جس نے مجھے اللہ، رسول ﷺ، اور دین سے جوڑا۔“
تبلیغی جماعت پر اعتراضات اور ان کے مدلل جوابات
تبلیغی جماعت، جو دنیا بھر میں اسلام کی پرامن دعوت کا عظیم فریضہ انجام دے رہی ہے، بعض حلقوں میں تنقید اور اعتراضات کا نشانہ بنتی ہے۔ بعض افراد لاعلمی یا غلط فہمی کی بنیاد پر، اور بعض مخالف فکر رکھنے والے لوگ اپنے مخصوص نقطہ نظر سے تبلیغی جماعت پر مختلف اعتراضات کرتے ہیں۔
یہ کتاب انہی اعتراضات کے جامع، مدلل اور دلنشین انداز میں جوابات پر مشتمل ہے تاکہ حق بات واضح ہو، غلط فہمیاں دور ہوں، اور دین کی سچی خدمت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
مشہور اعتراضات اور ان کے جوابات
اس کتاب میں درج ذیل اہم اعتراضات اور ان کے علمی و شرعی جوابات کو شامل کیا گیا ہے
فی سبیل اللہ کا مفہوم اور شرعی مصداق
تبلیغی جماعت میں خرچ کو “فی سبیل اللہ” کہنا بعض لوگوں کو کھٹکتا ہے، جبکہ کتاب میں اس کی مکمل وضاحت کی گئی ہے کہ فی سبیل اللہ کا حقیقی مطلب کیا ہے اور تبلیغی خرچ اس میں کیوں شامل ہے۔
رائیونڈ مرکز اور اکابرین پر اعتراضات
رائیونڈ مرکز اور وہاں کے بزرگوں پر کیے جانے والے اعتراضات کا تفصیلی دفاع پیش کیا گیا ہے، جس میں علمی حوالہ جات اور تاریخی شواہد شامل ہیں۔
تبلیغی جماعت پر اعتراض کرنے والوں کو جواب
ان تمام حضرات کے لیے جنہیں تبلیغی جماعت سے شکوے ہیں، کتاب میں اخلاقی، فکری اور دعوتی اسلوب میں مدلل جوابات دیے گئے ہیں۔
کیا تبلیغی جماعت والے وہاں بھی ہیں؟
یعنی کیا دنیا کے ہر کونے میں یہ جماعت پہنچی؟ اس سوال پر شماریاتی اور مشاہداتی دلائل کے ساتھ وضاحت دی گئی ہے۔
دعوت و تبلیغ کی شرعی حیثیت
حضرت محمد ﷺ کی وفات کے بعد امت پر دعوت کا فریضہ
کتاب میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد یہ کام کس کے ذمے ہے؟ اور امت کو کن آیات و احادیث کی بنیاد پر دعوت دینا فرض ہے؟
چھ نمبرز پر کام کرنے کی حکمت
تبلیغی جماعت کا “چھ نمبر” والا نظام صرف ترتیب اور سہولت کے لیے ہے، نہ کہ دین کی کوئی نئی شریعت۔
گھر گھر جا کر دعوت دینا
اس عمل کو بعض لوگ بدعت سمجھتے ہیں، حالانکہ کتاب میں اس کے لیے صحابہ کرام کے طرزِ عمل سے ثبوت فراہم کیا گیا ہے۔
تبلیغی جماعت کا طریقۂ کار اور شبہات کا ازالہ
کیا تبلیغی کام بھی وہی اصل تبلیغ ہے؟
دعوت کے اس طریقے کو سنت کے دائرے میں ثابت کیا گیا ہے اور مخالفین کے خدشات کا ازالہ کیا گیا ہے۔
موجودہ تبلیغ کی شرعی حیثیت
کتاب میں دلائل سے ثابت کیا گیا ہے کہ موجودہ تبلیغ بھی دین کی خدمت ہے اور اس کا شرعی جواز موجود ہے۔
تبلیغ ہر مسلمان پر فرض ہے یا نہیں؟
تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ فرض کفایہ، فرض عین اور نفل دعوت کا فرق کیا ہے۔
مدرسہ، اصلاح اور تعلیم
کیا اصلاح صرف مدرسہ میں ہے یا جماعت میں بھی؟
اس سوال پر تحقیقی انداز میں بات کی گئی ہے کہ اصلاح نفس کے لیے جماعت بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
تبلیغ سے پہلے مدرسہ کی تعلیم کیوں؟
کیا ہر فرد کے لیے دینی تعلیم حاصل کیے بغیر تبلیغ میں جانا درست ہے؟ اس پر متوازن مؤقف پیش کیا گیا ہے۔
فضائل اعمال اور تبلیغی نصاب پر اعتراضات
فضائل اعمال کی نوعیت اور مقام
کتاب میں بتایا گیا ہے کہ فضائل اعمال صرف فضائل کے بیان کے لیے ہے، اس پر عقائد یا فقہ کی بنیاد نہیں رکھی گئی۔
فضائل اعمال پر اعتراضات کا جواب
مخصوص روایات پر ہونے والے اعتراضات کے سند، درایت اور مقصد کے لحاظ سے جوابات دیے گئے ہیں۔
تبلیغی نصاب: دیوبندی یا بریلوی؟
اس اختلاف پر فکری اور علمی تجزیہ کیا گیا ہے کہ تبلیغی جماعت کا مقصد فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر دین کی دعوت دینا ہے۔
تبلیغی چلہ اور اس کے احکام
چلہ کے مخصوص دنوں کی حیثیت
یہ صرف تنظیمی ترتیب ہے، شریعت کی طرف سے لازم نہیں، بلکہ اس کے پیچھے دعوتی حکمتیں ہیں۔
تبلیغی سفر کا ثواب
بعض جگہوں پر سات لاکھ نمازوں کا ثواب جیسی روایات بیان کی جاتی ہیں، جن پر اعتراض ہوتا ہے—اس کتاب میں ان اقوال کی فقہی حیثیت، سیاق و سباق اور عوامی ترغیب کی حکمتوں کو واضح کیا گیا ہے۔
تبلیغی جماعت کی عمومی عادات پر اعتراضات
مسجد میں زیادہ قیام کرنا
کیا تبلیغی جماعت والوں کا مسجد میں دن رات گزارنا دین سے ثابت ہے؟ اس کا مکمل جواب دیا گیا ہے۔
تبلیغی اجتماعات میں نکاح
اس پر ہونے والے اعتراضات کے سماجی اور شرعی پہلو پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
خلاصہ
یہ کتاب تبلیغی جماعت پر کیے گئے تمام اعتراضات کا تسلی بخش اور مدلل جواب فراہم کرتی ہے۔ یہ نہ صرف دعوت و تبلیغ کرنے والوں کے لیے حوصلہ افزا ہے بلکہ مخالفین کو بھی سنجیدگی سے غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اگر آپ سچائی جاننا چاہتے ہیں، دلائل سے بات سمجھنا چاہتے ہیں، اور دین کی خدمت کا صحیح انداز دیکھنا چاہتے ہیں—تو یہ کتاب ضرور پڑھیں۔