Tafheem ul Maibazi Urdu Sharah Maibazi by Maulana Fuzial Ahmad Nasiri
PDF Viewer
تفہیم المیبذی اردو شرح میبذی – علم الحکمت کی جدید اور مدلل اردو شرح
کتاب کا نام: تفہیم المیبذی اردو شرح میبذی
موضوع: علم الحکمت والفلسفہ
شارح: مولانا فضیل احمد ناصری
زبان: اردو
ناشر: فیصل پبلی کیشنز
تفہیم المیبذی اردو شرح میبذی ایک اہم اور جدید اردو شرح ہے جو علم الحکمت جیسے دقیق فن کو عام فہم اور سلیس انداز میں پیش کرتی ہے۔ یہ شرح خاص طور پر مدارس کے طلباء، اساتذہ اور فلسفہ کے شائقین کے لیے نہایت مفید اور رہنما کتاب ہے۔
علم الحکمت و الفلسفہ کا تعارف
علم الحکمت ایک ایسا علم ہے جو اشیاء کی حقیقت، وجود، عقل، روح، نفس اور کائنات کے بنیادی سوالات کا عقلی اور استدلالی انداز میں تجزیہ کرتا ہے۔ یہ فن اسلامی دنیا میں صدیوں سے علمی گفتگو، فکری تحقیق اور عقلی استنباط کی بنیاد رہا ہے۔
علم الحکمت کی اہمیت
دینی علوم کی عقلی تائید
علم الحکمت دینی اصولوں کو عقلی بنیادوں پر استوار کرنے میں مدد دیتا ہے۔
باطل نظریات کا رد
فلسفہ کے ذریعے انسان باطل اور مشتبہ افکار کا علمی تجزیہ کر کے درست موقف اختیار کر سکتا ہے۔
تفکر و استدلال کی صلاحیت
یہ فن طالب علم میں تجزیہ، استدلال، اور دلیل کی بنیاد پر علمی بات کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔
مصنف کا تعارف
مولانا فضیل احمد ناصری ایک ممتاز عالم، مدرس، اور فلسفہ و منطق کے ماہر محقق ہیں۔ ان کی تدریسی خدمات اور فلسفیانہ بصیرت مدارس و جامعات میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ تفہیم المیبذی اردو شرح میبذی ان کی علمی محنت کا نتیجہ ہے، جس میں انہوں نے فلسفہ کے دقیق نکات کو آسان اردو میں مدلل انداز سے بیان کیا ہے۔
شرح کا تعارف
تفہیم المیبذی اردو شرح میبذی، مشہور نصابی متن “میبذی” پر لکھی گئی جامع اور مفصل شرح ہے۔ اس میں نہ صرف اصل متن کی وضاحت کی گئی ہے بلکہ ہر سطر اور ہر اشکال کو تفصیل سے بیان کر کے طلباء کے لیے فہم کو آسان بنایا گیا ہے۔
شرح کی اہمیت
اردو زبان میں سہل و موثر انداز
طلباء کی فہم کے مطابق سادہ اردو میں لکھی گئی، جو پیچیدہ موضوعات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
نصاب کے مطابق ترتیب
مدارس کے موجودہ نصاب کے مطابق اس شرح کو ترتیب دیا گیا ہے، جو تدریس میں آسانی پیدا کرتی ہے۔
علمی و تدریسی رہنمائی
یہ شرح اساتذہ اور طلباء دونوں کے لیے تدریسی معاون اور فکری رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
شرح کی خصوصیات
سادہ اور قابل فہم زبان
دقیق فلسفیانہ اصطلاحات کو آسان اردو زبان میں سمجھایا گیا ہے۔
ہر سطر کی مکمل وضاحت
اصل متن کے ہر جملے کو الگ الگ تفصیل سے واضح کیا گیا ہے۔
علمی اشکالات کا تفصیلی جواب
طلباء کو درپیش ہونے والے اشکالات کو علمی و منطقی انداز سے حل کیا گیا ہے۔
اسباق کی مناسب تقسیم
شرح کو تدریسی ترتیب سے سبق وار تقسیم کیا گیا ہے، جس سے مطالعہ اور تدریس آسان ہوتی ہے۔
جدید اسلوب اور زبان
جدید اردو انداز میں لکھا گیا ہے، جو نئے طلباء کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
شرح کے فوائد برائے طلباء
علمی فہم میں اضافہ
طلباء کو فلسفہ کی بنیادی اصطلاحات اور نظریات کو گہرائی سے سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔
امتحانی تیاری کے لیے مؤثر
مدارس کے امتحانات کی تیاری کے لیے یہ شرح نہایت مفید اور معاون ہے۔
خود مطالعہ کے لیے بہترین
وہ طلباء جو خود فلسفہ پڑھنا چاہتے ہیں ان کے لیے ایک بہترین رہنمائی کا ذریعہ ہے۔
شرح کے فوائد برائے علماء
تدریسی آسانی
علماء اس شرح کی مدد سے فلسفہ کے اسباق کو بآسانی سمجھا اور پڑھا سکتے ہیں۔
مطالعہ و تحقیق میں معاون
تحقیقی مطالعات اور علمی تجزیہ کے لیے یہ شرح ایک مضبوط علمی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
علمی گفتگو میں مددگار
علمی و فکری محافل میں فلسفیانہ موضوعات پر گفتگو کے لیے بہترین حوالہ جاتی مواد فراہم کرتی ہے۔
نتیجہ
اگر آپ علم الحکمت کے طالب علم ہیں یا اس کے مدرس، تو تفہیم المیبذی اردو شرح میبذی آپ کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ یہ شرح آپ کے فہم، فکر اور تدریس میں انقلاب پیدا کر سکتی ہے۔ آج ہی اس علمی خزانے کو حاصل کریں اور تفہیم المیبذی اردو شرح میبذی سے استفادہ کریں۔
حالات صاحب ہدایۃ الحکمۃ
ماتن کا نام مفضل بن عمر ہے، لقب اثیر الدین اور عرف مولا نا زادہ ہے، ملک روم میں ابہر“ نامی مقام آپ کا وطن مالوف ہے اس لئے ابہری کہے جاتے ہیں، آپ بڑے عالم و حق اور منطقی وفلسفی تھے آپ کی طرح آپ کا قلم بھی برابر حرکت کرتا رہتا تھا چناں چہ آپ کے قلم سے کئی معرکتہ الآراء کتابیں وجود میں آئی ہیں۔ ان میں ا- الاشارات ۲- زبده ۳- المحصول وغیرہ بڑی شہرت یاب ہیں۔ آپ کی ولادت کا پتہ کسی کتاب میں نہیں ملتا البتہ تاریخ وفات میں اختلاف ہے راجح یہ ہے کہ 660 ھ میں وفات پائی ہے۔
علامہ میبذی
آپ کا نام میرحسین بن معین الدین اور لقب کمال الدین ہے، نسباَ حسینی ، میبذ کے باشندے تھے اس لئے میبذ کہے جاتے ہیں، میبذ ایران کے اصبہان کا ایک مشہور قصبہ ہے جو شہر یزد سے قریب چار فرسخ پر واقع ہے آپ نے ابتدائے شباب میں ہی شیراز کا رخ کیا اور محقق دوانی جیسے باکمال سے تحصیل علوم کیا اور مملکت یزد میں ایک مدت تک قاضی رہے، صاحب معجم نے لکھا ہے کہ آپ علماء متاخرین اور ماہر متکلمین میں بڑے عالم کثیر تصانیف والے تھے، شعر و شاعری سے بھی کافی دلچسپی تھی ، آپ کی یادگار کتابوں میں میبزی، ہدایتہ الحکمہ کی شرح اور شرح طوالع شرح شمسیہ ، رسالہ فی المعما وغیرہ ایک انمٹ شہرت رکھتی ہیں آپ کی وفات ۹۰۴ ھ یا ۹۱۰ ھ میں ہوئی۔
حکمت و فلسفہ کی لغوی تعریف
حکمت کے معنی عدل و انصاف کے ہیں، علم و حلم، حق بات تک پہنچنا بھی اس کے معنی ہیں، فلسفہ کے معنی دانائی کے ہیں، یہ یونانی لفظ ہے، فیلا سوفا سے بنا ہے، جس کے معنی ” حکمت کا دلدادہ ہے۔ (فیلا : محبت ، سوفا: حکمت)
اصطلاحی تعریف
حکمت وفلسفہ کی اصطلاحی تعریف تین طرح سے کی جاتی ہے:
هـو عـلـم بـاحوال اعيان الموجودات على ما هي عليه في نفس الامر بقدر الطاقة البشرية
موجودات خارجیہ کے نفس الامری احوال کا جاننا انسانی طاقت کے بقدر۔
هو علم باحوال الموجودات على ما هي عليه في نفس الامر بقدر الطاقة البشرية
خروج النفس الى كمالها الممكن في جانبي العلم والعمل
یہ تمام تعریفیں کتاب میں آ رہی ہیں وہیں دیکھ اور سمجھ لیجئے گا۔
موضوع
حکمت و فلسفہ کا موضوع موجودات خارجیہ ہیں کیوں کہ اس میں موجودات خارجیہ کے احوال سے بحث ہوتی ہے۔
غرض و غایت
اشیاء کے حقائق سے واقف ہونا، ان کے اعتقادات کو حاصل کرنا، دنیا میں باکمال ہونا اور آخرت میں باسعادت و
کامیاب ہونا۔
انسان کا علمی مقام اور فلسفہ کی اہمیت
“عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ“
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اسے عقل و شعور کی بے پناہ نعمت سے نوازا، تاکہ وہ اپنی فطری استعداد سے موجودات کے اسرار کو سمجھ سکے اور خالق کائنات کی معرفت بصیرت کے ساتھ حاصل کر سکے۔ انسان کو یہ صلاحیت بھی بخشی گئی کہ وہ گمراہ فلاسفہ کے نظریات کا بھرپور جواب دے۔ اگرچہ آج جدید فلسفہ، قدیم فلسفہ کی جگہ لے چکا ہے، لیکن قدیم فلسفے کی کتب آج بھی مفید ہیں کیونکہ ان کے ذریعے ہم قدیم فلاسفہ کے نظریات، استدلال کے طریقے، اور اہلِ حق کے جوابات سے روشناس ہوتے ہیں۔
درسِ نظامی میں ہدایت الحکمت اور شرح میبذی کی اہمیت
درس نظامی میں فلسفہ کی جو کتاب زیرِ مطالعہ ہے، وہ “ہدایت الحکمت“ کی معروف شرح میبذی ہے۔ اگرچہ ماضی میں اور بھی کئی فلسفیانہ کتب شاملِ نصاب تھیں، مگر اب مدارس میں تقریباً صرف یہی کتاب باقی رہ گئی ہے۔ میبذی کو مشکل سمجھا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ اتنی مشکل نہیں جتنی کہ اس کے بارے میں مشہور کر دی گئی ہے۔ اس کتاب کی کئی شروحات لکھی گئی ہیں جن میں سے “تفہیم المیبذی“ ایک نئی شرح ہے جسے مولانا فضیل احمد ناصری نے ترتیب دیا ہے۔ فاضل شارح نے مشکل مباحث کو آسان انداز میں سمجھایا ہے، جس سے طلبہ اور اساتذہ دونوں مستفید ہو سکتے ہیں۔
مصنف کا ذاتی تجربہ اور اسلوبِ تدریس
مصنف کے بقول، طالب علمی کے دور میں میبذی کا نام سنتے ہی خوف محسوس ہوتا تھا، اور ابتدائی مطالعے سے کوئی خاص بات سمجھ نہ آئی۔ لیکن جب خود تدریس کا موقع ملا تو اس کتاب سے اس قدر دلچسپی پیدا ہو گئی کہ گویا ایک شاعر کو شاعری سے ہو جاتی ہے۔ طلبہ نے مصنف کے اندازِ تدریس کو مؤثر اور سہل قرار دیا، اور ان کے اصرار پر ہی یہ تشریحی کاپی تیار کی گئی۔
تشریحی کاپی کی تیاری: چیلنج اور عزم
یہ تشریحی کاوش آسان نہ تھی۔ وقت کی کمی اور مسلسل مطالعے کی مصروفیت نے مشکلات پیدا کیں، لیکن خدا کے فضل سے یہ مرحلہ مکمل ہو گیا۔ اگر مزید فرصت ملی تو بقیہ حصے کی تشریح بھی پیش کی جائے گی۔ اگرچہ ممکن ہے کہ کتاب میں کچھ سقم رہ گئے ہوں، لیکن پوری کوشش کی گئی ہے کہ اسے نہایت دھیان سے مکمل کیا جائے۔
فلسفہ کی اعتراض و جواب پر مبنی بحث کا منفرد انداز
میبذی کی ایک نمایاں اور صبر آزما خصوصیت یہ ہے کہ ہر بحث کے بعد متعدد اعتراضات اور ان کے جوابات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ تسلسل بعض اوقات طالب علم کو تھکا دیتا ہے، لیکن یہی پہلو طالب علموں میں فلسفہ کا ذوق بھی بیدار کرتا ہے۔ مصنف کی رائے میں طلبہ کو یہ سوچ کر گھبرانا نہیں چاہیے کہ میبذی کوئی “جناتی” کتاب ہے، بلکہ اسے سنجیدگی سے پڑھا اور سمجھا جائے تو بہت فائدہ ہوگا۔
اعتراضات کے جوابات کی تلاش اور مفروضات کی اہمیت
بعض مقامات پر اعتراضات تو پیش کیے گئے ہیں لیکن جواب نہیں دیا گیا۔ ان کے جوابات اساتذہ حضرات حواشی اور شروحات سے نکالتے ہیں۔ بعض اوقات کسی مفروضے یا غیر مانوس بات کو قبول کرنا ہی بحث کی سمجھ کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اگرچہ فطری طور پر ذہن اس سے متفق نہ ہو، تب بھی اس مفروضہ گفتگو کو تسلیم کرنا چاہیے تاکہ آگے کے مباحث کا فہم ممکن ہو۔
تالیفی تجربہ، اسلوب، اور دُعائے قبولیت
یہ مصنف کی پہلی تالیفی کاوش ہے جس میں عربی و اردو شروحات سے بھرپور استفادہ کیا گیا ہے۔ بعض جملے اصل ماخذ سے من و عن نقل کیے گئے ہیں تاکہ طلبہ کو مطلب سمجھنے میں آسانی ہو۔ اس کاوش کو بارگاہ ایزدی میں پیش کرتے ہوئے دعا کی گئی ہے کہ اللہ اسے قبول فرمائے، اور علما و طلبہ کے لیے نافع بنائے۔ آخر میں مصنف نے قارئین سے گزارش کی ہے کہ اگر کہیں کوئی غلطی ہو تو مطلع کیا جائے تاکہ اصلاح ممکن ہو۔
Tafheem ul Maibazi Urdu Sharah Maibazi pdf تفہیم المیبذی اردو شرح میبذی
Tafheem ul Maibazi Urdu Sharah Maibazi by Maulana Fuzial Ahmad Nasiri
تفہیم المیبذی اردو شرح میبذی – علم الحکمت کی جدید اور مدلل اردو شرح
کتاب کا نام: تفہیم المیبذی اردو شرح میبذی
موضوع: علم الحکمت والفلسفہ
شارح: مولانا فضیل احمد ناصری
زبان: اردو
ناشر: فیصل پبلی کیشنز
تفہیم المیبذی اردو شرح میبذی ایک اہم اور جدید اردو شرح ہے جو علم الحکمت جیسے دقیق فن کو عام فہم اور سلیس انداز میں پیش کرتی ہے۔ یہ شرح خاص طور پر مدارس کے طلباء، اساتذہ اور فلسفہ کے شائقین کے لیے نہایت مفید اور رہنما کتاب ہے۔
علم الحکمت و الفلسفہ کا تعارف
علم الحکمت ایک ایسا علم ہے جو اشیاء کی حقیقت، وجود، عقل، روح، نفس اور کائنات کے بنیادی سوالات کا عقلی اور استدلالی انداز میں تجزیہ کرتا ہے۔ یہ فن اسلامی دنیا میں صدیوں سے علمی گفتگو، فکری تحقیق اور عقلی استنباط کی بنیاد رہا ہے۔
علم الحکمت کی اہمیت
دینی علوم کی عقلی تائید
علم الحکمت دینی اصولوں کو عقلی بنیادوں پر استوار کرنے میں مدد دیتا ہے۔
باطل نظریات کا رد
فلسفہ کے ذریعے انسان باطل اور مشتبہ افکار کا علمی تجزیہ کر کے درست موقف اختیار کر سکتا ہے۔
تفکر و استدلال کی صلاحیت
یہ فن طالب علم میں تجزیہ، استدلال، اور دلیل کی بنیاد پر علمی بات کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔
مصنف کا تعارف
مولانا فضیل احمد ناصری ایک ممتاز عالم، مدرس، اور فلسفہ و منطق کے ماہر محقق ہیں۔ ان کی تدریسی خدمات اور فلسفیانہ بصیرت مدارس و جامعات میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ تفہیم المیبذی اردو شرح میبذی ان کی علمی محنت کا نتیجہ ہے، جس میں انہوں نے فلسفہ کے دقیق نکات کو آسان اردو میں مدلل انداز سے بیان کیا ہے۔
شرح کا تعارف
تفہیم المیبذی اردو شرح میبذی، مشہور نصابی متن “میبذی” پر لکھی گئی جامع اور مفصل شرح ہے۔ اس میں نہ صرف اصل متن کی وضاحت کی گئی ہے بلکہ ہر سطر اور ہر اشکال کو تفصیل سے بیان کر کے طلباء کے لیے فہم کو آسان بنایا گیا ہے۔
شرح کی اہمیت
اردو زبان میں سہل و موثر انداز
طلباء کی فہم کے مطابق سادہ اردو میں لکھی گئی، جو پیچیدہ موضوعات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
نصاب کے مطابق ترتیب
مدارس کے موجودہ نصاب کے مطابق اس شرح کو ترتیب دیا گیا ہے، جو تدریس میں آسانی پیدا کرتی ہے۔
علمی و تدریسی رہنمائی
یہ شرح اساتذہ اور طلباء دونوں کے لیے تدریسی معاون اور فکری رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
شرح کی خصوصیات
سادہ اور قابل فہم زبان
دقیق فلسفیانہ اصطلاحات کو آسان اردو زبان میں سمجھایا گیا ہے۔
ہر سطر کی مکمل وضاحت
اصل متن کے ہر جملے کو الگ الگ تفصیل سے واضح کیا گیا ہے۔
علمی اشکالات کا تفصیلی جواب
طلباء کو درپیش ہونے والے اشکالات کو علمی و منطقی انداز سے حل کیا گیا ہے۔
اسباق کی مناسب تقسیم
شرح کو تدریسی ترتیب سے سبق وار تقسیم کیا گیا ہے، جس سے مطالعہ اور تدریس آسان ہوتی ہے۔
جدید اسلوب اور زبان
جدید اردو انداز میں لکھا گیا ہے، جو نئے طلباء کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
شرح کے فوائد برائے طلباء
علمی فہم میں اضافہ
طلباء کو فلسفہ کی بنیادی اصطلاحات اور نظریات کو گہرائی سے سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔
امتحانی تیاری کے لیے مؤثر
مدارس کے امتحانات کی تیاری کے لیے یہ شرح نہایت مفید اور معاون ہے۔
خود مطالعہ کے لیے بہترین
وہ طلباء جو خود فلسفہ پڑھنا چاہتے ہیں ان کے لیے ایک بہترین رہنمائی کا ذریعہ ہے۔
شرح کے فوائد برائے علماء
تدریسی آسانی
علماء اس شرح کی مدد سے فلسفہ کے اسباق کو بآسانی سمجھا اور پڑھا سکتے ہیں۔
مطالعہ و تحقیق میں معاون
تحقیقی مطالعات اور علمی تجزیہ کے لیے یہ شرح ایک مضبوط علمی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
علمی گفتگو میں مددگار
علمی و فکری محافل میں فلسفیانہ موضوعات پر گفتگو کے لیے بہترین حوالہ جاتی مواد فراہم کرتی ہے۔
نتیجہ
اگر آپ علم الحکمت کے طالب علم ہیں یا اس کے مدرس، تو تفہیم المیبذی اردو شرح میبذی آپ کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ یہ شرح آپ کے فہم، فکر اور تدریس میں انقلاب پیدا کر سکتی ہے۔ آج ہی اس علمی خزانے کو حاصل کریں اور تفہیم المیبذی اردو شرح میبذی سے استفادہ کریں۔
حالات صاحب ہدایۃ الحکمۃ
ماتن کا نام مفضل بن عمر ہے، لقب اثیر الدین اور عرف مولا نا زادہ ہے، ملک روم میں ابہر“ نامی مقام آپ کا وطن مالوف ہے اس لئے ابہری کہے جاتے ہیں، آپ بڑے عالم و حق اور منطقی وفلسفی تھے آپ کی طرح آپ کا قلم بھی برابر حرکت کرتا رہتا تھا چناں چہ آپ کے قلم سے کئی معرکتہ الآراء کتابیں وجود میں آئی ہیں۔ ان میں ا- الاشارات ۲- زبده ۳- المحصول وغیرہ بڑی شہرت یاب ہیں۔ آپ کی ولادت کا پتہ کسی کتاب میں نہیں ملتا البتہ تاریخ وفات میں اختلاف ہے راجح یہ ہے کہ 660 ھ میں وفات پائی ہے۔
علامہ میبذی
آپ کا نام میرحسین بن معین الدین اور لقب کمال الدین ہے، نسباَ حسینی ، میبذ کے باشندے تھے اس لئے میبذ کہے جاتے ہیں، میبذ ایران کے اصبہان کا ایک مشہور قصبہ ہے جو شہر یزد سے قریب چار فرسخ پر واقع ہے آپ نے ابتدائے شباب میں ہی شیراز کا رخ کیا اور محقق دوانی جیسے باکمال سے تحصیل علوم کیا اور مملکت یزد میں ایک مدت تک قاضی رہے، صاحب معجم نے لکھا ہے کہ آپ علماء متاخرین اور ماہر متکلمین میں بڑے عالم کثیر تصانیف والے تھے، شعر و شاعری سے بھی کافی دلچسپی تھی ، آپ کی یادگار کتابوں میں میبزی، ہدایتہ الحکمہ کی شرح اور شرح طوالع شرح شمسیہ ، رسالہ فی المعما وغیرہ ایک انمٹ شہرت رکھتی ہیں آپ کی وفات ۹۰۴ ھ یا ۹۱۰ ھ میں ہوئی۔
حکمت و فلسفہ کی لغوی تعریف
حکمت کے معنی عدل و انصاف کے ہیں، علم و حلم، حق بات تک پہنچنا بھی اس کے معنی ہیں، فلسفہ کے معنی دانائی کے ہیں، یہ یونانی لفظ ہے، فیلا سوفا سے بنا ہے، جس کے معنی ” حکمت کا دلدادہ ہے۔ (فیلا : محبت ، سوفا: حکمت)
اصطلاحی تعریف
حکمت وفلسفہ کی اصطلاحی تعریف تین طرح سے کی جاتی ہے:
هـو عـلـم بـاحوال اعيان الموجودات على ما هي عليه في نفس الامر بقدر الطاقة البشرية
موجودات خارجیہ کے نفس الامری احوال کا جاننا انسانی طاقت کے بقدر۔
هو علم باحوال الموجودات على ما هي عليه في نفس الامر بقدر الطاقة البشرية
خروج النفس الى كمالها الممكن في جانبي العلم والعمل
یہ تمام تعریفیں کتاب میں آ رہی ہیں وہیں دیکھ اور سمجھ لیجئے گا۔
موضوع
حکمت و فلسفہ کا موضوع موجودات خارجیہ ہیں کیوں کہ اس میں موجودات خارجیہ کے احوال سے بحث ہوتی ہے۔
غرض و غایت
اشیاء کے حقائق سے واقف ہونا، ان کے اعتقادات کو حاصل کرنا، دنیا میں باکمال ہونا اور آخرت میں باسعادت و
کامیاب ہونا۔
انسان کا علمی مقام اور فلسفہ کی اہمیت
“عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ“
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اسے عقل و شعور کی بے پناہ نعمت سے نوازا، تاکہ وہ اپنی فطری استعداد سے موجودات کے اسرار کو سمجھ سکے اور خالق کائنات کی معرفت بصیرت کے ساتھ حاصل کر سکے۔ انسان کو یہ صلاحیت بھی بخشی گئی کہ وہ گمراہ فلاسفہ کے نظریات کا بھرپور جواب دے۔ اگرچہ آج جدید فلسفہ، قدیم فلسفہ کی جگہ لے چکا ہے، لیکن قدیم فلسفے کی کتب آج بھی مفید ہیں کیونکہ ان کے ذریعے ہم قدیم فلاسفہ کے نظریات، استدلال کے طریقے، اور اہلِ حق کے جوابات سے روشناس ہوتے ہیں۔
درسِ نظامی میں ہدایت الحکمت اور شرح میبذی کی اہمیت
درس نظامی میں فلسفہ کی جو کتاب زیرِ مطالعہ ہے، وہ “ہدایت الحکمت“ کی معروف شرح میبذی ہے۔ اگرچہ ماضی میں اور بھی کئی فلسفیانہ کتب شاملِ نصاب تھیں، مگر اب مدارس میں تقریباً صرف یہی کتاب باقی رہ گئی ہے۔ میبذی کو مشکل سمجھا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ اتنی مشکل نہیں جتنی کہ اس کے بارے میں مشہور کر دی گئی ہے۔ اس کتاب کی کئی شروحات لکھی گئی ہیں جن میں سے “تفہیم المیبذی“ ایک نئی شرح ہے جسے مولانا فضیل احمد ناصری نے ترتیب دیا ہے۔ فاضل شارح نے مشکل مباحث کو آسان انداز میں سمجھایا ہے، جس سے طلبہ اور اساتذہ دونوں مستفید ہو سکتے ہیں۔
مصنف کا ذاتی تجربہ اور اسلوبِ تدریس
مصنف کے بقول، طالب علمی کے دور میں میبذی کا نام سنتے ہی خوف محسوس ہوتا تھا، اور ابتدائی مطالعے سے کوئی خاص بات سمجھ نہ آئی۔ لیکن جب خود تدریس کا موقع ملا تو اس کتاب سے اس قدر دلچسپی پیدا ہو گئی کہ گویا ایک شاعر کو شاعری سے ہو جاتی ہے۔ طلبہ نے مصنف کے اندازِ تدریس کو مؤثر اور سہل قرار دیا، اور ان کے اصرار پر ہی یہ تشریحی کاپی تیار کی گئی۔
تشریحی کاپی کی تیاری: چیلنج اور عزم
یہ تشریحی کاوش آسان نہ تھی۔ وقت کی کمی اور مسلسل مطالعے کی مصروفیت نے مشکلات پیدا کیں، لیکن خدا کے فضل سے یہ مرحلہ مکمل ہو گیا۔ اگر مزید فرصت ملی تو بقیہ حصے کی تشریح بھی پیش کی جائے گی۔ اگرچہ ممکن ہے کہ کتاب میں کچھ سقم رہ گئے ہوں، لیکن پوری کوشش کی گئی ہے کہ اسے نہایت دھیان سے مکمل کیا جائے۔
فلسفہ کی اعتراض و جواب پر مبنی بحث کا منفرد انداز
میبذی کی ایک نمایاں اور صبر آزما خصوصیت یہ ہے کہ ہر بحث کے بعد متعدد اعتراضات اور ان کے جوابات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ تسلسل بعض اوقات طالب علم کو تھکا دیتا ہے، لیکن یہی پہلو طالب علموں میں فلسفہ کا ذوق بھی بیدار کرتا ہے۔ مصنف کی رائے میں طلبہ کو یہ سوچ کر گھبرانا نہیں چاہیے کہ میبذی کوئی “جناتی” کتاب ہے، بلکہ اسے سنجیدگی سے پڑھا اور سمجھا جائے تو بہت فائدہ ہوگا۔
اعتراضات کے جوابات کی تلاش اور مفروضات کی اہمیت
بعض مقامات پر اعتراضات تو پیش کیے گئے ہیں لیکن جواب نہیں دیا گیا۔ ان کے جوابات اساتذہ حضرات حواشی اور شروحات سے نکالتے ہیں۔ بعض اوقات کسی مفروضے یا غیر مانوس بات کو قبول کرنا ہی بحث کی سمجھ کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اگرچہ فطری طور پر ذہن اس سے متفق نہ ہو، تب بھی اس مفروضہ گفتگو کو تسلیم کرنا چاہیے تاکہ آگے کے مباحث کا فہم ممکن ہو۔
تالیفی تجربہ، اسلوب، اور دُعائے قبولیت
یہ مصنف کی پہلی تالیفی کاوش ہے جس میں عربی و اردو شروحات سے بھرپور استفادہ کیا گیا ہے۔ بعض جملے اصل ماخذ سے من و عن نقل کیے گئے ہیں تاکہ طلبہ کو مطلب سمجھنے میں آسانی ہو۔ اس کاوش کو بارگاہ ایزدی میں پیش کرتے ہوئے دعا کی گئی ہے کہ اللہ اسے قبول فرمائے، اور علما و طلبہ کے لیے نافع بنائے۔ آخر میں مصنف نے قارئین سے گزارش کی ہے کہ اگر کہیں کوئی غلطی ہو تو مطلع کیا جائے تاکہ اصلاح ممکن ہو۔