Tafseer Rooh Ul Quran by Doctor Maulana Muhammad Aslam Siddiqi
تفسیر روح القرآن از ڈاکٹر مولانا محمد اسلم صدیقی
تفسیر(مفسر) کیلئے شرائط
عربی پر مہارت
قرآن و سنت عربی زبان میں نازل ہوئے ہیں اس لئے مفسر کیلئے ضروری ہے کہ وہ عربی زبان، اس کی باریکیوں ، اس کے اصناف و انواع ، اس کے محاسن سے پوری طرح واقف ہو ، وہ عربی زبان کی باریکیوں ، خوبیوں ، اشاروں کنایوں اور استعاروں سے جس قدر زیادہ واقف ہوگا اس قدر تفسیر کا حق ادا کر سکے گا۔
عربی کی باریک بینی کا علم ہونا
مفسر کیلئے جہاں قواعد کی رو سے زبان کی باریکیوں کا جاننا ضروری ہے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ مفسر زبان دانی کا خصوصی ذوق رکھتا ہو۔ کلام کے بہت سے محاسن ایسے ہوتے ہیں جن کا تعلق ذوق سے ہوتا ہے وہ قواعد کے احاطہ میں نہیں آسکتے۔ اسی طرح مفسر کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ جس زبان میں تفسیر کر رہا ہے، وہ عربی زبان کی باریکیوں کو اس زبان میں اسی طرح سے منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو کہ وہ ساری بات جو عربی مبین میں کہی گئی ہے، اسے اس زبان میں اسی فصاحت و بلاغت کے ساتھ ادا کر سکے۔
شان نزول کا علم
اسی طرح قرآن پاک کی ایک دعوت اور اس کا ایک مشن ہے، اس کیلئے نبی نے نے ایک تحریک برپا کی۔ اس تحریک کے مختلف ادوار تھے : ہر دور میں قرآن پاک کا ایک حصہ نازل ہوا ہے۔ ۸۵ مکی سورتیں ہے اور ۲۹ مدنی سورتیں ۔ ان سورتوں کے نزول کے وقت نبی صلى الله عليه وسلم اور آپ صلى الله عليه وسلم کی جماعت جس مرحلہ میں تھی اس مرحلہ کو سمجھنا قرآن فہمی کیلئے ضروری ہے۔ ان مراحل کو شانِ نزول سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس طرح بعض آیات کے خصوصی شان نزول بھی ہوتے ہیں۔ تغیر کو مجھنے کیلئے ان کا سمجھنا بھی ضروری ہے۔
قرآن کے عملی نفاذ کا سمجھنا
قرآن و سنت ایک نظام ہے جسے نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے دور میں عملاً نافذ فرمایا اور اس کے بعد کے ادوار میں نافذ رہا۔ قرآن پاک کو سمجھنے کیلئے اس نظام اور اس پر تعامل کو سمجھنا ضروری ہے۔ قرآن پاک پر عمل کو جو شکل اور صورت نبی کریم میں صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، ائمه مجتہدین اور سلف صالحین نے دی، اسے نظر انداز کر کے محض لغت کی بنیاد پر تفسیر گمراہی کا سبب بن سکتی ہے۔ جن لوگوں نے ایسا کیا ہے انہوں نے تفسیر کی بجائے تحریف کا ارتکاب کیا ہے۔
غیر متصادم تفسیر
فصیح عربی زبان کی بنیاد پر ایسی تفسیر کی جاسکتی ہے جو قرآن و سنت، اجماع صحابہ وسلف صالحین کے تعامل سے متصادم نہ ہو۔
عقل سلیم(غیر متصادم) کے بنا پر تفسیر
عقل سلیم عقل سلیم کے ذریعہ بھی تفسیر کی جاسکتی ہے جبکہ وہ قرآن وسنت، اجماع صحابہ و تابعین وسلف صالحین سے ثابت شدہ امور سے متصادم نہ ہو۔
ناسخ و منسوخ کا علم
مفسر کیلئے ضروری ہے کہ وہ ناسخ و منسو محکم و متشابہ اور دیگر علوم قرآنی کا کافی وشافی علم رکھتا ہو۔ حدیث ، اجماع امت، قیاس، اجتہاد، فقہ اسلامی ، مذاہب فقہاء، علوم عقلیہ و نقلیہ ، تاریخ و نقص سے واقف ہو اور مسیح اور غلط میں تمیز کی پوری صلاحیت رکھتا ہو ۔ اب تک کے اہم تفسیری ذخیره و تفاسیر بالاثر ، تفاسیر بالاجتهاد، تفاسیر لغوی عقلی وادبی پر اسے عبور حاصل ہو اور زمانے کے فتنوں اور اس کے احوال سے واقف ہو ” تفاسیر بالہوئی اور اہل ھوئی کے نظریات و افکار کا ماہر اور ان کی تردید کی اہلیت و صلاحیت رکھتا ہو۔
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی صاحب بھی ان خوش قسمت ہستیوں میں شامل ہیں جنہیں تفسیر قرآن کی فضیلت حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے اور قرآنی عجائب کو پیش کرنے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ ان کی زندگی قرآن پاک میں غور و فکر تغییری ذخیرہ کے مطالعہ اور دروس قرآن دینے میں گزری جو اب کتابی شکل میں مرتب ہو کر سامنے آگئے ہیں۔ محترم ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی صاحب عربی زبان، اردو ادب میں بھی مہارت تامہ رکھتے ہیں۔ تحریک اور دعوت کے مختلف مراحل اور تاریخ اسلام میں بھی بصیرت رکھتے ہیں۔ اسلام کو ایک نظام حیات کی حیثیت سے انہوں نے اچھی طرح سمجھا ہوا ہے اور شریعت اسلامیہ میں گہرائی اور گیرائی کے حامل ہیں ۔ تعامل امت تغییری اور فقہی ذخیرہ پر بھی عبور رکھتے ہیں اور ایک مفسر میں جو خو بیاں اور کمالات ہونے چاہئیں،وہ ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے دروس کو دیکھ کر بلاشبہ کہنا پڑتا ہے کہ انہیں قرآن پاک اور اس کے علوم فنون پر مکمل عبور حاصل ہے۔ انہیں صرف و نحو، معانی و بلاغت، اصول فقه، لغت عربیه، اصول تفسیر، احادیث نبویہ، آثار صحابہ و تابعین، اقوال ائمہ مجتہدین، قدیم وجدید علم کلام، قدیم و جدید مفسرین کے تفسیری ذخیره ، تاریخ و قصص، مستشرقین و ملحدین کے لٹریچر، منکرین سنت اور قادیانیت کے شکوک وشبہات اور ان کی تردید پر مکمل عبور حاصل ہے۔
👇 ڈاون لوڈ کریں
Tafseer Rooh Ul Quran تفسیر روح القرآن
Tafseer Rooh Ul Quran by Doctor Maulana Muhammad Aslam Siddiqi
تفسیر روح القرآن از ڈاکٹر مولانا محمد اسلم صدیقی
تفسیر(مفسر) کیلئے شرائط
عربی پر مہارت
قرآن و سنت عربی زبان میں نازل ہوئے ہیں اس لئے مفسر کیلئے ضروری ہے کہ وہ عربی زبان، اس کی باریکیوں ، اس کے اصناف و انواع ، اس کے محاسن سے پوری طرح واقف ہو ، وہ عربی زبان کی باریکیوں ، خوبیوں ، اشاروں کنایوں اور استعاروں سے جس قدر زیادہ واقف ہوگا اس قدر تفسیر کا حق ادا کر سکے گا۔
عربی کی باریک بینی کا علم ہونا
مفسر کیلئے جہاں قواعد کی رو سے زبان کی باریکیوں کا جاننا ضروری ہے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ مفسر زبان دانی کا خصوصی ذوق رکھتا ہو۔ کلام کے بہت سے محاسن ایسے ہوتے ہیں جن کا تعلق ذوق سے ہوتا ہے وہ قواعد کے احاطہ میں نہیں آسکتے۔ اسی طرح مفسر کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ جس زبان میں تفسیر کر رہا ہے، وہ عربی زبان کی باریکیوں کو اس زبان میں اسی طرح سے منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو کہ وہ ساری بات جو عربی مبین میں کہی گئی ہے، اسے اس زبان میں اسی فصاحت و بلاغت کے ساتھ ادا کر سکے۔
شان نزول کا علم
اسی طرح قرآن پاک کی ایک دعوت اور اس کا ایک مشن ہے، اس کیلئے نبی نے نے ایک تحریک برپا کی۔ اس تحریک کے مختلف ادوار تھے : ہر دور میں قرآن پاک کا ایک حصہ نازل ہوا ہے۔ ۸۵ مکی سورتیں ہے اور ۲۹ مدنی سورتیں ۔ ان سورتوں کے نزول کے وقت نبی صلى الله عليه وسلم اور آپ صلى الله عليه وسلم کی جماعت جس مرحلہ میں تھی اس مرحلہ کو سمجھنا قرآن فہمی کیلئے ضروری ہے۔ ان مراحل کو شانِ نزول سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس طرح بعض آیات کے خصوصی شان نزول بھی ہوتے ہیں۔ تغیر کو مجھنے کیلئے ان کا سمجھنا بھی ضروری ہے۔
قرآن کے عملی نفاذ کا سمجھنا
قرآن و سنت ایک نظام ہے جسے نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے دور میں عملاً نافذ فرمایا اور اس کے بعد کے ادوار میں نافذ رہا۔ قرآن پاک کو سمجھنے کیلئے اس نظام اور اس پر تعامل کو سمجھنا ضروری ہے۔ قرآن پاک پر عمل کو جو شکل اور صورت نبی کریم میں صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، ائمه مجتہدین اور سلف صالحین نے دی، اسے نظر انداز کر کے محض لغت کی بنیاد پر تفسیر گمراہی کا سبب بن سکتی ہے۔ جن لوگوں نے ایسا کیا ہے انہوں نے تفسیر کی بجائے تحریف کا ارتکاب کیا ہے۔
غیر متصادم تفسیر
فصیح عربی زبان کی بنیاد پر ایسی تفسیر کی جاسکتی ہے جو قرآن و سنت، اجماع صحابہ وسلف صالحین کے تعامل سے متصادم نہ ہو۔
عقل سلیم(غیر متصادم) کے بنا پر تفسیر
عقل سلیم عقل سلیم کے ذریعہ بھی تفسیر کی جاسکتی ہے جبکہ وہ قرآن وسنت، اجماع صحابہ و تابعین وسلف صالحین سے ثابت شدہ امور سے متصادم نہ ہو۔
ناسخ و منسوخ کا علم
مفسر کیلئے ضروری ہے کہ وہ ناسخ و منسو محکم و متشابہ اور دیگر علوم قرآنی کا کافی وشافی علم رکھتا ہو۔ حدیث ، اجماع امت، قیاس، اجتہاد، فقہ اسلامی ، مذاہب فقہاء، علوم عقلیہ و نقلیہ ، تاریخ و نقص سے واقف ہو اور مسیح اور غلط میں تمیز کی پوری صلاحیت رکھتا ہو ۔ اب تک کے اہم تفسیری ذخیره و تفاسیر بالاثر ، تفاسیر بالاجتهاد، تفاسیر لغوی عقلی وادبی پر اسے عبور حاصل ہو اور زمانے کے فتنوں اور اس کے احوال سے واقف ہو ” تفاسیر بالہوئی اور اہل ھوئی کے نظریات و افکار کا ماہر اور ان کی تردید کی اہلیت و صلاحیت رکھتا ہو۔
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی صاحب بھی ان خوش قسمت ہستیوں میں شامل ہیں جنہیں تفسیر قرآن کی فضیلت حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے اور قرآنی عجائب کو پیش کرنے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ ان کی زندگی قرآن پاک میں غور و فکر تغییری ذخیرہ کے مطالعہ اور دروس قرآن دینے میں گزری جو اب کتابی شکل میں مرتب ہو کر سامنے آگئے ہیں۔ محترم ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی صاحب عربی زبان، اردو ادب میں بھی مہارت تامہ رکھتے ہیں۔ تحریک اور دعوت کے مختلف مراحل اور تاریخ اسلام میں بھی بصیرت رکھتے ہیں۔ اسلام کو ایک نظام حیات کی حیثیت سے انہوں نے اچھی طرح سمجھا ہوا ہے اور شریعت اسلامیہ میں گہرائی اور گیرائی کے حامل ہیں ۔ تعامل امت تغییری اور فقہی ذخیرہ پر بھی عبور رکھتے ہیں اور ایک مفسر میں جو خو بیاں اور کمالات ہونے چاہئیں،وہ ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے دروس کو دیکھ کر بلاشبہ کہنا پڑتا ہے کہ انہیں قرآن پاک اور اس کے علوم فنون پر مکمل عبور حاصل ہے۔ انہیں صرف و نحو، معانی و بلاغت، اصول فقه، لغت عربیه، اصول تفسیر، احادیث نبویہ، آثار صحابہ و تابعین، اقوال ائمہ مجتہدین، قدیم وجدید علم کلام، قدیم و جدید مفسرین کے تفسیری ذخیره ، تاریخ و قصص، مستشرقین و ملحدین کے لٹریچر، منکرین سنت اور قادیانیت کے شکوک وشبہات اور ان کی تردید پر مکمل عبور حاصل ہے۔
👇 ڈاون لوڈ کریں