Tahqiq Ul Hikmat Urdu Sharh Hidayat Ul Hikmat by Maulana Fazal Hadi
نام کتاب : تحقیق الحکمت اردو شرح ہدایۃ الحکمت
زبان : اردو
مصنف: مولانا فضل ہادی کوہستانی
ناشر: مکتبہ علمیہ
موضوع: علم الحکمت والفلسفہ
تحقیق الحکمت اردو شرح ہدایۃ الحکمت ایک نہایت اہم اور نایاب شرح ہے جو علم الحکمت و فلسفہ کے نصابی متون میں شامل “ہدایت الحکمت” پر اردو زبان میں لکھی گئی ہے۔ یہ شرح مولانا فضل ہادی کوہستانی کی علمی کاوش ہے جو فلسفہ کے دقیق مباحث کو آسان اور عام فہم انداز میں پیش کرتی ہے
علم الحکمت و فلسفہ کا تعارف
علم الحکمت یا فلسفہ وہ فن ہے جس میں کائنات، انسان، عقل، وجود اور حقائقِ اشیاء پر عقلی انداز میں بحث کی جاتی ہے۔ اسلامی علوم میں اس فن کا بنیادی مقصد دینی عقائد، احکام، اور اصولوں کو عقلی دلائل سے واضح کرنا ہے تاکہ فکری اور اعتقادی گمراہیوں سے امت کو محفوظ رکھا جا سکے۔
علم الحکمت کی اہمیت
فلسفہ اسلامی علمی روایت میں ہمیشہ سے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ تفاسیر، اصولِ فقہ، اور علم الکلام میں معقولات اور فلسفیانہ دلائل کی موجودگی اس کی اہمیت کا بین ثبوت ہے۔ ہمارے اکابر علماء جیسے علامہ تفتازانی، سعد الدین التفتازانی، اور امام رازی نے فلسفہ و منطق میں مہارت حاصل کر کے علمی دنیا پر گہرا اثر چھوڑا۔ موجودہ دور میں بھی درسی کتب جیسے “شرح عقائد”، “میبذی”، اور “ہدایت الحکمت” میں اس فن کی اصطلاحات موجود ہیں جنہیں سمجھنے کے لیے فلسفہ کا فہم ضروری ہے۔
مصنف کا تعارف
مولانا فضل ہادی کوہستانی فاضل دارالعلوم کراچی ہیں۔ آپ اس وقت پراچہ جامعہ اسلامیہ، انجراء، ضلع اٹک میں تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ علمی حلقوں میں آپ کی علمی کاوشیں بالخصوص علم الحکمت میں گراں قدر سمجھی جاتی ہیں۔ تحقیق الحکمت اردو شرح ہدایۃ الحکمت آپ کی پہلی باقاعدہ تصنیف ہے جسے اہل علم نے بے حد سراہا ہے۔
تحقیق الحکمت اردو شرح ہدایۃ الحکمت کا تعارف
تحقیق الحکمت اردو شرح ہدایۃ الحکمت فنِ فلسفہ کی معروف درسی کتاب “ہدایت الحکمت” پر مبنی ایک جامع اردو شرح ہے، جو وفاق المدارس العربیہ کے جدید نصاب میں شامل ہونے کے بعد لکھی گئی۔ اس شرح کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نہایت عام فہم، مربوط اور مدلل انداز میں لکھی گئی ہے تاکہ درجہ خامسہ کے طلبہ بھی بہ آسانی اسے سمجھ سکیں۔
شرح کی اہمیت
وفاق المدارس کے نئے فیصلے کے مطابق “میبذی” کے بجائے “ہدایت الحکمت” کو نصاب میں شامل کیا گیا، جس سے اردو شرح کی شدید ضرورت محسوس ہوئی۔ تحقیق الحکمت اردو شرح ہدایۃ الحکمت اس کمی کو پورا کرنے والی واحد معیاری اور مکمل شرح ہے۔ یہ نہ صرف درسی ضروریات کو پورا کرتی ہے بلکہ طلبہ کی فکری صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہے۔
شرح کی خصوصیات
تحقیق الحکمت اردو شرح ہدایۃ الحکمت کی چند اہم خصوصیات درج ذیل ہیں
سادہ، عام فہم اور شستہ زبان میں عبارت کی تشریح
ہر فصل کا دعویٰ اور حاصل دلیل الگ عنوان کے تحت واضح کیا گیا
غیر ضروری تفصیلات اور طویل اعتراضات سے اجتناب
متنی ترتیب کے مطابق حل اور مفہوم کو واضح کیا گیا
تدریسی اسلوب کے مطابق پیشکش تاکہ طلبہ کے لیے سہولت ہو
جدید تعلیمی معیار اور دینی نصاب کی ضروریات کا خیال
شرح کے فوائد
تحقیق الحکمت اردو شرح ہدایۃ الحکمت پڑھنے سے درج ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں
فلسفہ کی اصطلاحات اور قواعد کو سمجھنے میں آسانی
شرح عقائد جیسے درسی متون کی سمجھ میں گہرائی پیدا ہوتی ہے
طلبہ کو فلسفہ سے انسیت پیدا ہوتی ہے
مدرسین کے لیے تدریس میں آسانی پیدا ہوتی ہے
فنِ حکمت کے اصول یاد رکھنے میں سہولت ہوتی ہے
منطق و فلسفہ کی اسلامی علوم میں شمولیت کا پس منظر
ارباب علم پر یہ بات واضح ہے کہ قرون اولیٰ میں جب علم منطق و فلسفہ، یونانی زبان سے عربی زبان میں منتقل ہوئے، تو خوارج، معتزلہ، اور دیگر فرقِ باطلہ نے اپنے گھڑے ہوئے مسائل و عقائد ثابت کرنے کے لیے فلسفیانہ مسائل اور منطقی دلائل سے کام لینا شروع کیا۔ تو عین اُسی اثناء میں علماء امت نے ان کو ان کی زبان و عنوان میں منہ توڑ جواب دینے کے لیے معقولات کو بقدرِ ضرورت علومِ دینیہ (درسِ نظامی) میں شامل کر لیا۔
دلائلِ عقلیہ اور معقولات کا دینی علوم میں استعمال
تفاسیر، عقائد، اور اصولِ فقہ میں کثرت سے دلائلِ نقلیہ کے علاوہ دلائلِ عقلیہ اور مسائلِ فلسفہ ذکر کیے گئے، اور احکامِ دینیہ اور عقائدِ اسلامیہ کا اثبات فلسفیانہ انداز میں کیا گیا۔ مخالفین کے اعتراضات و شبہات کا ازالہ فرمایا گیا۔ ہمارے اکابر حضرات کے حالات اور تاریخ اس بات کا شاہد عدل ہیں کہ معقولات میں مکمل عبور حاصل کیے بغیر کتابوں کے حل میں بصیرت کا حصول اور مشکل مسائل تک رسائی مشکل ہی نہیں بلکہ محال ہے۔
مولانا فضل ہادی کی کاوش اور حدیۃ الحکمۃ کی شرح
اس لیے بندہ کو مولانا فضل ہادی صاحب کی اس کاوش کو دیکھ کر حد درجہ خوشی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے برادر عزیز سے علم دین کی تعظیم و خدمت لی ہے۔ دورِ حاضر میں حدیۃ الحکمۃ کی ایسی مفصل شرح اردو زبان میں ناپید تھی۔ مولانا نے اس کی تالیف فرما کر ایک عظیم کارنامہ انجام دیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ رب ذوالجلال مولانا کی اس خدمتِ عظیمہ کو قبول فرما کر سعادتِ دارین عطا فرمائے۔
فنِ فلسفہ سے عمومی بے رغبتی اور اس کی وجوہات
فلسفہ یونانی سے بے رغبتی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ طلبہ تو درکنار، بعض اساتذہ بھی اس سے متنفر نظر آ رہے ہیں۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ آج کل اس فن کو صحیح معنوں میں سمجھا ہی نہیں جاتا۔ ظاہر ہے کہ جس چیز کا کما حقہ استحضار نہ کیا جا سکے، اُس کی نہ صرف وقعت ختم ہو جاتی ہے بلکہ اس فن کی اصطلاحات غیر مانوس الاستعمال اور کریہ السمع لگتی ہیں۔
فنِ فلسفہ کی ضرورت اور استعدادِ علمی کا تعلق
حالانکہ اس فن کے قواعد و اصطلاحات سے واقفیت کے بغیر استعدادیں ناپختہ اور صلاحیتیں ناقص رہتی ہیں۔ خاص طور پر درجہ سادسہ کا اہم ترین مضمون “شرح عقائد” میں جب اس فن کی اصطلاحات آتی ہیں، تو ہمارے طلباء اس فن میں بالکل نابلد ہوتے ہیں، اور یوں شرحِ عقائد سے اس کی ملوحت اور ذوق ختم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اس فن کی طرف بقدرِ ضرورت توجہ دی جائے اور اس کے قواعد اور اصطلاحات سے واقفیت حاصل کی جائے۔
دار العلوم دیوبند کا منہج اور میبدی کی اہمیت
یہی وجہ تھی کہ برصغیر کے دینی اداروں کے سرچشمہ دارالعلوم دیوبند کا یہ معمول رہا ہے کہ اس فن کی جامع اور مفصل کتاب “میبدی“ کو درجہ سابعہ کے طالب علم کے لیے موقوف علیہ قرار دیا تھا۔ جب تک طالب علم میبدی نہ پڑھ لیتا، تب تک وہ اگلے درجے میں داخلہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا جاتا۔
وفاق المدارس کا نیا فیصلہ اور حدیۃ الحکمۃ کی شمولیت
لیکن آج وفاق المدارس العربیہ کے دور اندیش اور جید اکابر علماء کرام نے دورِ حاضر کے طلباء کی ضعفِ استعداد کے پیشِ نظر یہ فیصلہ کیا کہ اب میبدی کی بجائے حدیۃ الحکمۃ نصاب میں شامل کی جائے۔ چنانچہ اب درجہ خامسہ میں اس فن کا متنِ متین (جو یقینا اس فن میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے) داخلِ نصاب کر دیا گیا ہے۔
اردو شرح کی ضرورت اور بندہ کی کوشش
چونکہ یہ کتاب نصاب میں نو داخل شدہ ہے، اس لیے ابھی تک اس کی کوئی اردو شرح موجود نہیں تھی۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر بندہ ناچیز اس کی اردو شرح لکھنے کے لیے کمر بستہ ہو گیا۔ ربِ لم یزل کے فضل و کرم سے تھوڑے عرصے بعد ناچیز کے قلم سے اس کی پہلی اردو شرح نکلی، جسے علمی حلقوں میں پذیرائی ملی۔
شرح کی خصوصیات اور اسلوب
بندہ نے کوشش کی کہ کوئی مضمون زیادہ طول نہ پکڑے، بلکہ میبدی کی تحقیقات و تدقیقات، اعتراضات و جوابات جہاں ناگزیر نہیں تھے، چھوڑ دیے ہیں۔ اور ہر فصل کے دعوٰی اور حاصلِ دلیل کے عنوان سے کوشش کی ہے کہ متن کی عبارت پوری طرح حل ہو کر فصل کا اصل مقصد ظاہر و منکشف ہو جائے۔
اہلِ فن سے اصلاح کی درخواست
تاہم، کوئی انسان ہر سطح پر کمزور اور ناقص ہے۔ ہر چند کوشش کے باوجود غلطی رہ سکتی ہے۔ لہٰذا اہلِ فن اور اس میدان کے شہسواروں سے درخواست ہے کہ اس کتاب میں کوئی فنی یا کتابی غلطی نظر آئے تو تصحیح کرنے کے لیے مطلع فرمائیں تاکہ آئندہ ایڈیشن میں اصلاح کی جا سکے۔ بندہ بے حد ممنون ہوگا۔ بندے سے خدا تو ہم بن نہیں سکتے، وہ یہ چاہتے ہیں کہ کوئی خطا نہ ہو۔
خاتمہ
العبد الضعیف: فضل ہادی کوہستانی
فاضل دار العلوم کراچی
مدرس: پراچہ جامعہ اسلامیہ، انجراء، تحصیل جنڈ، ضلع اٹک