Tahzeeb Ul Mubahisa fi Taoshih ul Munazara تھزیب المباحثہ فی توشیح المناظرہ

Tahzeeb Ul Mubahisa fi Taoshih ul Munazara تھزیب المباحثہ فی توشیح المناظرہ

Tahzeeb Ul Mubahisa fi Taoshih ul Munazara by Mufti Muhammad Usman Harnolvi
تھزیب المباحثہ فی توشیح المناظرہ
المعروف ھدیۃ المناظر مفتی محمد عثمان ھرنولوی

PDF Viewer


روضة الناظر وجنة المناظر علم مناظرہ کے موضوع پر ایک جامع کتاب ہے، جو باطل فرقوں کے رد کے لیے اصول مناظرہ کو وضاحت کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب علماء اور طلباء کے لیے مناظرے کے اصول و ضوابط میں بہت مفید ثابت

مناظرہ کی اہمیت اور اس کے اصول

علم مناظرہ کا ادراک اور اس کی ضروریات آج کل کے علماء اور طلباء کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس پرفتن دور میں مناظرہ کے قوانین و اصول کا جاننا لازم ہے، کیونکہ علم مناظرہ کو غلط رنگ میں پیش کیا جانے لگا ہے۔ ہر ذی شعور اور دانشمند آدمی مناظرین اور علم مناظرہ سے نفرت کا اظہار کرنے لگا ہے۔

اعتراضات اور ان کے جوابات

پہلا اعتراض: مناظرہ فضول چیز ہے، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا

جواب: مناظرہ فضول نہیں بلکہ دین کی حفاظت کا اہم رکن ہے۔ مناظرین نے دین حنیف کو اصلی حالت میں برقرار رکھنے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دی ہیں۔ یہ اعتراض کہ فائدہ نہیں ہوتا، درست نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نمرود سے مناظرہ قرآن میں مذکور ہے، جہاں نمرود نے شکست تسلیم نہیں کی، مگر حق کے متلاشی لوگوں کو حق ضرور واضح ہوا۔

دوسرا اعتراض: مناظروں میں لڑائی جھگڑا ہوتا ہے

جواب: یہ اعتراض دینی حمیت اور غیرت کے خلاف ہے۔ جھگڑے کا امکان دین کے ہر شعبے میں ہوتا ہے، جیسے تبلیغ اور جہاد فی سبیل اللہ میں۔ اس خدشے کی بنا پر علم مناظرہ سے اعراض نہیں کیا جا سکتا۔

تیسرا اعتراض: مناظرہ کا انجام شور و شغب اور تعصب و عداوت ہے

جواب: آج کل مناظرہ اصول کے ساتھ نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے یہ امور واقع ہوتے ہیں۔ حجۃ الاسلام امام غزالی فرماتے ہیں کہ ان علتوں کو ختم کیا جائے نہ کہ علم مناظرہ کو۔

چوتھا اعتراض: مناظرہ کا ثبوت قرآن و حدیث میں نہیں ہے

جواب: مناظرہ کا ثبوت قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نمرود سے، حضرت نوح علیہ السلام کا اپنی قوم سے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرعون سے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عیسائیوں سے مناظرہ قرآن میں مذکور ہے۔

قرآن و حدیث میں مناظرہ کا حکم

سورۃ النحل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: “ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ” (النحل: 125)

یہ آیت ان لوگوں کی تردید میں ہے جو دین میں مناظرہ کرنے کا انکار کرتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین بھی منکروں سے حجت اور جدال کیا کرتے تھے۔

مناظرہ کا اصول اور ادب

اگر فریق مخالف بد زبانی پر اتر آئے تو قرآن کریم نے طریقہ مناظرہ بھی بیان فرمایا ہے: “وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ” (العنكبوت: 46)

اہل کتاب سے عمدہ طریقہ سے مناظرہ کرو، مگر جو لوگ ان میں سے زیادتی کریں، ان کا علاج بالمثل کرنا جائز ہے۔ علاج بالمثل جائز ہے اور ضرورت کے وقت اس کو اپنانا چاہیے۔

Leave a Reply