Taqreeb ut Tahzeeb Urdu Tarjuma pdf by Allama Ibn Hajar Asqalani
کتاب: تقریب التھذیب اردو مترجم
مصںف: علامہ ابن حجر عسقلانی
مترجم:مولانا نیاز احمد
موضوع: علم اسمائے رجال
فن: حالات رواۃ
ناشر: مکتبۃ رحمانیہ
تعداد :2 جلدیں
کتاب کا تعارف
تقریب التہذیب اردو مترجم علمِ حدیث کے اہم اور بنیادی فن اسماء الرجال سے تعلق رکھنے والی ایک نہایت مستند اور معروف کتاب ہے۔ اس کتاب میں راویانِ حدیث کے حالات کو اختصار، وضاحت اور اصولی انداز میں پیش کیا گیا ہے، تاکہ حدیث کی صحت و ضعف کو سمجھنے میں سہولت حاصل ہو۔ اسماء الرجال وہ علم ہے جس کے بغیر نہ سند کی جانچ ممکن ہے اور نہ ہی حدیث کے قبول یا رد کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے، اسی لیے محدثین کے نزدیک اس علم کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
علم اسماء الرجال کی اہمیت
علومِ حدیث میں اسماء الرجال کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ حدیث دو حصوں پر مشتمل ہوتی ہے، ایک متن اور دوسرا سند۔ سند راویوں کے اس سلسلے کو کہتے ہیں جو متنِ حدیث تک پہنچاتا ہے، اور اسی پر حدیث کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر راویوں کے حالات، ان کے ضبط، عدالت اور ثقاہت کا علم نہ ہو تو حدیث کے صحیح یا غیر صحیح ہونے کا فیصلہ ممکن نہیں رہتا۔ امام علی بن المدینی رحمہ اللہ کا یہ قول اس علم کی عظمت کو واضح کرتا ہے کہ معانیِ حدیث کو سمجھنا نصف علم ہے اور معرفتِ رجال نصف علم ہے۔ گویا علمِ حدیث کی تکمیل اسی وقت ہوتی ہے جب راویوں کے حالات پر مکمل عبور حاصل ہو۔
مصنف کا علمی مقام
علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ علمِ حدیث اور فنِ رجال کے وہ عظیم امام ہیں جن کی تصانیف آج بھی دنیا بھر کے علمی حلقوں میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ کی وفات 852ھ میں ہوئی، مگر آپ کا علمی ورثہ صدیوں بعد بھی زندہ ہے۔ تقریب التہذیب دراصل ان کی مشہور کتاب تہذیب التہذیب کا خلاصہ اور نچوڑ ہے، جس میں انہوں نے مختلف ائمہ حدیث کے اقوال سے نتائج اخذ کر کے راویوں کے بارے میں اپنی محققانہ آراء پیش کی ہیں۔
کتاب کی نوعیت اور اسلوب
یہ کتاب اصل میں تہذیب التہذیب کی تشخیص ہے۔ تہذیب التہذیب میں راویوں کے حالات تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں، جبکہ یہاں اختصار کے ساتھ ہر راوی کے بارے میں حتمی اور جامع رائے پیش کی گئی ہے۔ اسی وجہ سے یہ کتاب طلبہ، اساتذہ اور محققین کے لیے نہایت مفید سمجھی جاتی ہے، کیونکہ کم وقت میں زیادہ معلومات فراہم کرتی ہے۔
اردو ترجمے کی اہمیت
برصغیر کے طلبہ اور اہلِ علم کے لیے عربی متون سے استفادہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، اس لیے اس کتاب کا اردو ترجمہ ایک بڑی علمی خدمت ہے۔ مولانا نیاز احمد اوکاڑوی نے نہایت محنت، دیانت اور سرعت کے ساتھ اس کتاب کا ترجمہ مکمل کیا، جس سے اردو دان طبقہ بھی اس عظیم علمی ذخیرے سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ناشر مکتبۃ رحمانیہ پہلے بھی اسماء الرجال کی اہم کتاب میزان الاعتدال کا اردو ترجمہ شائع کر چکا ہے، اور اب اس کتاب کی اشاعت اسی علمی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
طلبہ کے لیے افادیت
درسِ نظامی کے طلبہ کے لیے یہ کتاب ایک بنیادی رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے مطالعے سے راویوں کے مراتب، ان کے ضعف و ثقاہت اور مختصر تعارف ایک ہی جگہ دستیاب ہو جاتا ہے، جو حدیث کی تخریج اور تحقیق میں بے حد معاون ثابت ہوتا ہے۔
علماء اور محققین کے لیے فائدہ
حدیث پر تحقیق کرنے والے علماء کے لیے یہ کتاب ایک فوری ریفرنس ہے۔ کسی راوی کے بارے میں مختصر مگر جامع رائے درکار ہو تو یہی کتاب سب سے پہلے سامنے آتی ہے، اسی لیے علمی دنیا میں اسے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
نتیجہ
تقریب التہذیب اردو مترجم علمِ اسماء الرجال کی وہ معیاری کتاب ہے جس کے بغیر علومِ حدیث کا سنجیدہ مطالعہ ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف محدثین کے علمی ذوق کی عکاسی کرتی ہے بلکہ مسلمانوں کے اس عظیم علمی کارنامے کی بھی نمائندہ ہے جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔