Taqseem e Jaidad K Islami Usool Mufti Abubakr Jabir
تقسیم جائداد کے اسلامی اصول ایک مستند اور تحقیقی کتاب ہے جو کہ اسلامی قانونِ وراثت یعنی علم المیراث کے مکمل اصولوں کو واضح کرتی ہے۔ یہ کتاب مولانا محمد ابو بکر قاسمی کی علمی کاوش ہے جس میں قرآن و سنت کی روشنی میں جائداد کی تقسیم سے متعلق ہر اہم پہلو کو بیان کیا گیا ہے۔
کتاب کا اسلوب عام فہم، استدلالی اور عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے، جس میں مشکل فقہی مسائل کو آسان انداز میں واضح کیا گیا ہے تاکہ عام مسلمان اور شرعی رہنمائی کے متلاشی افراد بآسانی استفادہ کر سکیں۔
علم المیراث کیا ہے؟
علم المیراث، جسے علم الفرائض بھی کہا جاتا ہے، اسلامی فقہ کا وہ شعبہ ہے جو مرنے والے کی جائداد کی شرعی تقسیم سے متعلق ہے۔ اس علم کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے اور اس کے ذریعے ورثاء کے درمیان انصاف اور عدل قائم ہوتا ہے۔
علم المیراث کی اہمیت
شرعی پہلو
- قرآن کریم میں سورۃ النساء میں تفصیل کے ساتھ وراثتی احکام بیان کیے گئے ہیں۔
- نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “علم الفرائض نصف العلم ہے، اور یہ وہ علم ہے جو سب سے پہلے اُٹھا لیا جائے گا۔“
سماجی پہلو
- خاندانی جھگڑوں اور نزاعات کا خاتمہ
- خواتین اور بچوں کو ان کا جائز حق دینا
- اسلامی عدل و انصاف کی بنیاد پر مال کی تقسیم
مصنف کا تعارف: مولانا محمد ابو بکر قاسمی
مولانا محمد ابو بکر قاسمی ایک تجربہ کار عالمِ دین اور ماہرِ فقہ ہیں، جنہوں نے مختلف اسلامی اور فقہی موضوعات پر گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ آپ کی تحریر میں سادگی، وضاحت اور دلائل کی گہرائی پائی جاتی ہے۔
علم المیراث جیسے پیچیدہ فن پر آپ کی یہ کتاب “تقسیم جائداد کے اسلامی اصول ” اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے شرعی مسائل کو نہایت سہولت کے ساتھ قارئین کے لیے پیش کیا ہے۔
تقسیم جائداد کے اسلامی اصول کی خصوصیات
قرآنی دلائل سے مزین
کتاب میں تمام مسائل قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں بیان کیے گئے ہیں، جس سے شرعی استناد حاصل ہوتا ہے۔
سنت و فقہ کی رہنمائی
احادیث اور فقہی اقوال کی بنیاد پر ہر مسئلہ کی وضاحت کی گئی ہے تاکہ قاری کو مکمل شرعی رہنمائی میسر آ سکے۔
عصری مثالوں کا استعمال
موجودہ زمانے کے مطابق جائداد، جائیداد میں خواتین کے حقوق، وصیت، منقولہ و غیر منقولہ املاک وغیرہ جیسے مسائل کو شامل کیا گیا ہے۔
آسان زبان اور ترتیب
زبان عام فہم ہے تاکہ عوام الناس بھی مستفید ہو سکیں، اور ترتیب ایسی ہے جو مدرسین، طلباء اور وکلاء کے لیے بھی یکساں مفید ہو۔
تقسیم جائداد کے اسلامی اصول کی اہمیت
علمی اہمیت
یہ کتاب علم المیراث کے بنیادی اصولوں سے لے کر جدید پیچیدہ مسائل تک کی مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
شرعی اہمیت
اسلامی وراثت کے مکمل نفاذ کے لیے یہ کتاب ایک راہنما کی حیثیت رکھتی ہے، جو ہر مسلمان کو اپنی شرعی ذمہ داری سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
تربیتی و اصلاحی اہمیت
خاندانوں میں جائداد کے مسائل کو ختم کرنے، عدالت سے بچنے، اور عدل و انصاف کو فروغ دینے میں یہ کتاب کردار ادا کرتی ہے۔
تقسیم جائداد کے اسلامی اصول کے فوائد
طلباء کے لیے
- علم الفرائض کی تدریس میں مددگار
- مثالوں اور جدولوں کے ذریعے سمجھنے میں آسانی
- نصاب سے ہٹ کر اضافی علم کا ذریعہ
علماء کے لیے
- فتووں کی تیاری میں رہنمائی
- مختلف مکاتب فکر کی تطبیقات کا موازنہ
- تحقیقی استدلال اور قرآنی نکات کی مدد
عوام کے لیے
- شرعی مسائل کو سمجھنے میں آسانی
- خود جائداد تقسیم کرنے کے لیے مکمل رہنمائی
- خواتین و یتیموں کے حقوق کی آگاہی
تقسیم جائداد کے اسلامی اصول کیوں ضروری ہے؟
- پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش جیسے ممالک میں اکثر وراثتی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
- یہ کتاب اسلامی نظامِ عدل کو سمجھنے اور اسے گھریلو سطح پر نافذ کرنے کے لیے بہترین ذریعہ ہے۔
- اس کتاب کے ذریعے ہر شخص اپنی جائداد کی شرعی تقسیم خود کر سکتا ہے یا کسی کا حق تلف ہونے سے بچا سکتا ہے۔
مقدمہ: مال سے محبت اور اسلامی رہنمائی
مال سے محبت فطری ہے — “زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ” — حرام سے بچنے اور حلال معاملات میں صفائی رکھنے کے عجیب ضابطے ہماری شریعت نے عطا کیے ہیں۔ خرچ کرنے اور مالی ذمہ داریاں اٹھانے کے سلسلے میں واضح حد بندی کر دی ہے، پھر قانون کے ساتھ اخلاقاً خرچ کرنے کی بھی ترغیب دی ہے۔
شریعت سے جہالت اور اس کے نتائج
شریعت سے جہالت نے ہمیں اس شعبہ میں بھی بے حد نقصان پہنچایا۔ والد، والدہ یا سرپرست خاندان کی ذرا طبیعت خراب ہوئی تو طبیب سے پہلے وکیل کو لایا جاتا ہے۔ انتقال کیا ہوا، تقسیم جائیداد کے تنازعات اور مقدمہ بازیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ نسل در نسل قطع تعلق، دلوں کی دراڑ، بہتان تراشی، غیبت و بدگمانی کا بازار گرم رہتا ہے۔
خواتین، یتیموں اور بیواؤں کا حق میراث
کئی پشت گزر گئے مگر بیٹیوں، یتیموں اور بیواؤں کو حق میراث نہیں دیا گیا۔ حالانکہ اسلام کا نظام ہبہ اور وصیت اتنا صاف ہے کہ پیشگی سارے جھگڑوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ حق تلفی، ظلم اور انتشار کا سدِ باب ہو سکتا ہے۔
شرعی ابواب کی اہمیت اور قانونی حیثیت
ویسے ساری شریعت اہم اور مطلوب ہے لیکن ان ابواب (ہبہ، وصیت، میراث) کو مغربی نظام قانون، پرسنل لاء، عائلی قانون کے نام پر کافی اہمیت دیتا ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں بھی عدالتیں اس قسم کے مقدمات میں شرعی اصول کی پابند ہیں — یہ ہمارا دستوری حق ہے۔
اسلامی اصولوں سے دوری اور قانون سازی کا رخ
مگر ہماری بدعملی اور اسلام دشمن طاقتوں کی شرانگیزی ایک ایک مسئلہ میں خلاف شریعت قانون سازی کرتی جارہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر مسلمان خدائی قانون پر (ہر حال میں دنیا و آخرت میں سرخروئی کے لیے) جینے مرنے کا حوصلہ پیدا کرلیں، تو کوئی قانون انھیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
اسلامی غیرت اور طاغوت کی طرف میلان
اگر وہ خود طاغوت اور جاہلیت کی طرف جانا چاہتے ہوں تو کوئی مسلم مملکت یا سیاسی پارٹی انھیں فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ اسی موضوع کے تمام عملی پہلوؤں اور اکیڈمی کے فیصلوں کو جمع کرنے کی اس کتاب میں کوشش کی گئی ہے۔
کتاب کی ترتیب اور علمی معاونت
اس کتاب کی ترتیب اور مواد کے نقل و ترجمے، بار بار حذف و اضافے کا کام مجھی و محبوبی فی اللہ مفتی محمد منیر صاحب قاسمی کرتے رہے — “بارك الله في علمه وعمله“۔ میراث کے مسائل بنانے پر انھیں ماشاء اللہ مہارت حاصل ہے۔
علماء کی قیمتی نظرثانی و تحریر
فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم نے نہایت مصروفیت کے زمانے میں (مفتی عثمان صاحب، نواب صاحب کنٹہ، حیدرآباد کے توسط سے) اپنی حسینی تحریر سے نوازا۔ حضرت مولانا عبیداللہ اسعدی (استاذ حدیث و افتاء جامعہ عربیہ ہتھورا) دامت برکاتہم نے بھی نظر ثانی فرمائی — فجزاهم الله أحسن الجزاء۔
تاریخ: ۱۳ رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ
مطابق: ۱۹ / ۰۵ / ۲۰۱۸ء
مرتب: محمد ابوبکر جابر قاسمی