Taqseem e Miras Urdu pdf تقسیم میراث اردو

Taqseem e Miras Urdu pdf تقسیم میراث اردو

Taqseem e Miras Urdu by Molana Syed Shaukat Ali

PDF Viewer

کتاب : تقسیم میراث  اردو

مؤلف: مولانا سید شوکت علی

موضوع : علم المیراث

زبان: اردو

ناشر:اسلامک پبلیکیشنز لیمیٹڈ

مصنف کا تعارف – مولانا سید شوکت علی

مولانا سید شوکت علی صاحب ایک محقق، مدرس اور عالمِ باعمل ہیں، جنہوں نے علم المیراث جیسے نازک موضوع پر سادہ، عام فہم اور مدلل انداز میں قلم اٹھایا۔ انہوں نے اس کتاب میں اپنے علم، تجربہ اور تدریسی مہارت کو سمو کر عام مسلمانوں کو وراثت کی تفہیم کا ایک مؤثر ذریعہ فراہم کیا ہے۔

کتاب “تقسیم میراث اردو” کی خصوصیات

سادہ و عام فہم انداز

مصنف نے مشکل فقہی اصولوں کو آسان زبان میں بیان کیا ہے تاکہ ہر قاری اسے بآسانی سمجھ سکے۔

قرآن و سنت سے دلائل

ہر اصول اور مسئلے کے ساتھ قرآن اور احادیث سے مدلل حوالہ جات موجود ہیں۔

مثالی مشقیں

وراثت کی تقسیم کے عملی طریقے اور حسابی مشقیں شامل کی گئی ہیں۔

جدید طرز پر ترتیب

کتاب کو اس انداز سے مرتب کیا گیا ہے کہ وہ موجودہ تعلیمی نصاب اور عوامی ذہن دونوں سے ہم آہنگ ہو۔

مدارس و عوام دونوں کے لیے مفید

یہ کتاب مدارس کے طلباء کے ساتھ ساتھ عام قارئین اور قانونی مشیروں کے لیے بھی مفید ہے۔

کتاب کا مکمل تعارف

کتاب تقسیم میراث اردو علم المیراث کی ایک جامع اور منفرد تصنیف ہے، جو علمی وسعت، فقہی گہرائی اور تدریسی سہولت کا امتزاج ہے۔ اس میں ان تمام اصولوں کو سادہ اسلوب میں بیان کیا گیا ہے جن کے ذریعے ایک مسلمان وراثت کی تقسیم کو شرعی حدود میں انجام دے سکتا ہے۔

کتاب “تقسیم میراث اردو” کی اہمیت

فقہی رہنمائی

یہ کتاب وراثتی مسائل میں مفتی و فقیہ کے لیے مضبوط رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

خاندانی سکون کا ذریعہ

کتاب کے ذریعے افراد وراثت کے اصول سیکھ کر اپنے خاندانی مسائل کو شرعی طریقے سے حل کر سکتے ہیں۔

علمی افادیت

یہ کتاب دارالعلوم، جامعات، مدارس اور دینی اداروں کے طلباء کے لیے بہترین نصاب معاون ہے۔

سرمایہ داری اور اشتراکیت: دو انتہاؤں کا انجام

آج دنیا کے اکثر ممالک سرمایہ داری کے تباہ کن اثرات کا رونا رو رہے ہیں، اور ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ دولت کو چند مخصوص ہاتھوں میں سمٹنے سے کس طرح روکا جائے۔ اشتراکی نظام نے اس کا ایک علاج تجویز کیا، لیکن وہ دوسری انتہا کو پہنچ گئے اور فرد کی ذاتی ملکیت ہی کو ختم کر کے اسٹیٹ کو سرمایہ دارِ اعظم بنا کر بدنامِ زمانہ سرمایہ داری کے سارے نقائص اس میں سمو دیے۔

اسلامی اقتصادی نظام: ایک معتدل اور متوازن راہ

دراصل اس افراط و تفریط کے بین بین ہی کوئی راستہ ان الجھنوں سے نجات دلا سکتا ہے، اور وہ ہے اسلام کا راستہ۔ اسلام کا اقتصادی نظام نہ تو فرد کی ملکیت کو ختم کرتا ہے اور نہ اس کا موقع دیتا ہے کہ دولت سمٹ سکے۔ جائز اور حلال طریقہ سے دولت پیدا کرنے کی پابندی، دولت کو خرچ کرنے کے حدود، حقوق العباد کی ادائیگی، زکواۃ و صدقات کا التزام اور تقسیم میراث وہ توازن قائم کرتے ہیں جو دولت کی صحیح تقسیم کے لیے ضروری ہے۔

تقسیم میراث: دولت کی گردش کا اسلامی اصول

صرف تقسیم میراث ہی کے اصولوں کو لیجیے، ان کی پابندی کرنے سے ہر فرد کی موت پر اس کا ترکہ متعدد افراد پر تقسیم ہو جاتا ہے اور دولت گردش کرتی رہتی ہے۔ یہ اصول اسلام میں ایک مستقل فن اور علم کی حیثیت رکھتے ہیں جس کو علم الفرائض کہتے ہیں۔

علم الفرائض کی اہمیت: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد

ان اصولوں کی اہمیت کا اندازہ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے بخوبی ہو سکتا ہے کہ:
اے لوگو! علم الفرائض خود بھی سیکھو اور دوسروں کو بھی سکھاؤ، کہ وہ نصف علم ہے”۔

کتاب کی ترتیب و تالیف کا محرک

اسی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے، اپنی کم علمی کے باوجود اللہ تعالیٰ سے اس توفیق کا طالب ہوا کہ ایک مختصر کتاب سلیس اُردو میں جدید حسابی قاعدوں کے ساتھ مرتب کر سکوں۔ چنانچہ اس علم کا باقاعدہ مطالعہ شروع کیا اور درس گاہ جماعت اسلامی رام پور (ہند) میں ریاضی کے استاد کی حیثیت سے مجھے یہ مضمون طلبہ کو پڑھانے کا بھی کئی سال موقع ملا۔

تدریس کے ساتھ تدریج: اسباق کی تیاری

درس گاہ میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ میں اپنے اسباق کا اختصارہ بھی تیار کرتا رہا۔ پھر مزید اس علم پر جو کتابیں عربی، اردو یا انگریزی میں مل سکیں، ان سے بھی استفادہ کیا اور اس طرح یہ کتاب مرتب ہوتی گئی۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہ کام اس نے مجھ جیسے بے بضاعت اور کم علم شخص سے لے لیا۔

عام فہم زبان اور آسان قاعدہ

ترتیب میں زبان عام فہم اور سلیس استعمال کی گئی ہے جو طلبہ، کم تعلیم یافتہ لوگ اور عام مسلمان سب ہی بآسانی سمجھ سکیں۔ سوالات حل کرنے کے لیے جو قاعدہ استعمال کیا گیا ہے نہایت آسان ہے، جو کسورِ عام اور سادہ تقسیم جاننے والوں کی سمجھ میں بآسانی آ سکتا ہے۔

پرانے تصحیحی قاعدوں سے نجات

اس قاعدے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے استعمال سے “تصحیح” کے پرانے قاعدے کی، جس میں اکثر لوگوں کو دقت محسوس ہوتی ہے، کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ نیز “مدخول” کے سوالات اور ترقی کی وہ صورت بھی، جس میں بیوی یا شوہر نہ ہوں، اُسی ایک قاعدے سے حل ہو جاتے ہیں۔

اصول و مثالیں: فقہ حنفی کی روشنی میں

مختصر یہ کہ قاعدوں کی بھرمار کو ختم کر دیا گیا ہے۔ تمام اصول مثالوں کے ذریعہ واضح کیے گئے ہیں اور پوری کتاب میں سو سے زیادہ حل شدہ مثالیں دے کر بہت سی ممکنہ صورتوں میں رہنمائی کر دی گئی ہے۔ مثالوں کے حل فقہِ حنفی کے مطابق دیے گئے ہیں، لیکن جہاں کہیں امام ابو یوسف اور امام محمد کے طریقوں میں اختلاف ہوا ہے، اس کی نشان دہی بھی کر دی گئی ہے اور بعض مثالوں کے حل دونوں طریقوں سے دیے گئے ہیں۔

علم الفرائض کی ناقدری اور نتیجہ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس فن کو نصف علم فرمایا، اور ہم مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ ہم نے جس طرح اسلام کے بہت سے احکام کو پس پشت ڈال دیا ہے، اُس سے کہیں زیادہ بے توجہی اس نصف علم کے ساتھ کر رہے ہیں۔ کوئی مقامی رواج کی پناہ ڈھونڈ کر اور کوئی مصلحتوں اور ضروریات کی آڑ لے کر ان احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے، کبھی دانستہ اور کبھی نادانستہ۔

وارثوں کا حق تلف کرنا: سنگین معاشرتی جرم

نتیجہ یہ ہے کہ صدیوں سے تقسیم میراث کے احکام کی نافرمانی ہو رہی ہے۔ کہیں لڑکیوں اور بہنوں کے حصے غصب کر لیے جاتے ہیں، کہیں نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر رحم دل بننے کی کوشش میں ان وارثوں کے حصے بھی مقرر کیے جاتے ہیں جنہیں شریعت نے محجوب قرار دیا ہے۔

پیشین گوئی رسول اللہ ﷺ اور آج کا حال

اب حال یہ ہے کہ یہ علم ہی مسلمانوں سے تقریباً مفقود ہوگیا ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشین گوئی بھی ثابت ہو رہی ہے کہ
سب سے پہلے جو علم میری امت سے اٹھا لیا جائے گا وہ علم الفرائض ہوگا”۔

اردو میں کتابوں کی کمی: ایک علمی خلاء

اس علم سے آج کے مسلمانوں کی عدم واقفیت کا سب سے بڑا سبب تو ہماری لا پرواہی اور بے توجہی ہے، لیکن ایک سبب یہ بھی ہے کہ اس علم پر اُردو میں عام فہم اور سلیس زبان میں لکھی ہوئی کتابوں کی کمی ہے۔

عربی میں علمی خزانے اور اُردو داں طبقہ کی محرومی

عربی زبان میں تو علما سلف رحمہم اللہ تعالیٰ نے تقریباً ستر مستقل کتابیں (جن میں چالیس کے قریب اصل کتب، چودہ شروح اور پانچ چھ مختصر رسالے شامل ہیں) لکھ کر اس علم کی اشاعت کا سامان کر دیا۔ لیکن عربی نہ جاننے کی وجہ سے برصغیر (ہند و پاکستان) کے مسلمان ان گراں قدر تصنیفات سے استفادہ نہ کر سکے۔

موجودہ کتب کے اسلوب، طباعت اور حسابی قاعدے

ہماری اپنی زبان میں جو کتابیں ملتی ہیں، یا تو ان کی زبان و اسلوبِ بیان اور طرزِ طباعت موجودہ تعلیم یافتہ طبقہ کے لیے نامانوس سا ہے، یا ان میں جدید حسابی قاعدوں کا استعمال نہیں کیا گیا ہے، اور پرانے طریقے میں یہ نئے لوگ الجھ کر رہ جاتے ہیں۔

ممکنہ کوتاہیاں اور قارئین سے درخواست

لیکن چونکہ کوئی انسان غلطی سے مبرا نہیں، اس لیے امکان ہے کہ کہیں کوئی سہو ہو گیا ہو۔ میں ان قارئین کا ممنون و شکر گزار ہوں گا جو میری کوتاہی یا غلطی سے مجھ ناچیز کو از راہِ کرم آگاہ فرمائیں گے۔

دُعا اور نیت کی وضاحت

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو ہم سب کے لیے مفید و کار آمد بنائے اور جس مقصد سے یہ لکھی گئی ہے وہ پورا ہو — یعنی زیادہ سے زیادہ لوگ علم الفرائض سے واقفیت حاصل کریں۔
آمین۔ وما توفیقی الا باللہ

مصنف کا تعارف

۱۲ جولائی ۱۹۷۳
سید شوکت علی
۴۸۰ بلاک اپ، شمالی ناظم آباد – کراچی ۳۳

Leave a Reply