Tasrihat Urdu Sharh Saba ul Muallaqat by Maulana Ateeq Ur Rahman
تصریحات اردو شرح سبع معلقات از مولانا عتیق الرحمن
ادب عربی پر چھوٹی ، بڑی اور چھوٹوں ، بڑوں نے بہت سی کتابیں بھی ہیں اس چمن میں طرح طرح کے پھول لگائے گئے ہیں، ادب سے خُو بو رکھنے والے حضرات جدید سے جدید اسلوب پر قلم فرسائی کر رہے ہیں لیکن اس چمن میں السبع المعلقات“ کے پھول کی جو رعنائیاں ہیں وہ کسی طرح کم ہوتی نظر نہیں آتیں اور نہ مابعد کے زمانے میں یہ ممکن لگتا ہے ، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ کتاب ادب کے ان شہ پاروں کا مجموعہ ہے جو بعثت نبوی صلى الله عليه وسلم سے بھی قبل عربی ادب کے بام عروج کے زمانے میں کہے گئے ہیں یہ وہ وقت تھا جب عرب کا بچہ بچہ برجستہ اشعار کہنے پر قادر تھا ، ذوق زندہ تھے اور ذہن کے جھروکوں میں ہزاروں قصیدے بآسانی سما جاتے تھے ، ادب عربی کے اس وقت عظمت وسطوت میں حرم مکی کے اندر واقع بیت اللہ شریف کی دیواروں پر عرب کے مایہ ناز شعراء چیدہ چیدہ کلام آویزاں کر دیتے تھے السبع المعلقات ادب عربی کے اسی زمان و مکان کے سات شاہکاروں کا مجموعہ ہے جو ادب کی دنیا میں اب تک زندہ و جاویداں ہیں عرصہ دراز سے جاری ان کی درس و تدریس ان کی عظمت رفتہ پر مہر ثبت ہے۔ ان معلقات میں عربی الفاظ کا عظیم ذخیرہ ، اچھوتے اسالیب منفر دطرز بیان اور تشبیہات واستعارات کے وہ حسن امتزاج پائے جاتے ہیں جو آج عربی کے جدید دور میں بھی موضع استدلال اور خط استشہاد ہیں، کتاب کی اس قابل ذکر مقبولیت وافادیت میں احتقر سمجھتا ہے کہ سب سے زیادہ دخل الفاظ و استعارات کے ان مرقعات کا ہے جو ان صفحات کے آنگن میں جابجا بکھرے نظر آتے ہیں جن کی چاشنی اور جاذبیت گزرتے وقت اور بدلتے زمانے کے باوجود اپنی پوری آب و تاب کیساتھ باقی ہے، پاک و ہند میں سبع معلقات چونکہ ابتداء ہی سے داخل نصاب رہی ہے اور دیگرکتب کی طرح اس فنی علمی شاہکار کی مختلف انداز سے خدمت کی گئی ہے لیکن اردو زبان میں اس کتاب پر ایک ایسی جامع شرح کی ضرورت تھی جو اس کے الفاظ ومحاورات کو واضح کرتے ہوئے صرفی پیچیدگیاں اور نحوی تراکیب حل کرے، کتاب کی سمت سے مسلسل ہل من مزید کی صدا آرہی ہے اس وقت سبع معلقات کی جو شرح آپ کے ہاتھوں میں ہے یہ اسی صدا کی بازگشت ہے اور اسی طلب و تقاضے پر لبیک ہے محترم مولانا عتیق الرحمن سلمۂ مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے انتہائی عرق ریزی و جانفشانی سے کتاب کی ایسی اردو شرح لکھی ہے جو نہ صرف لغتہ و ترکیباً کتاب کو حل کرتی ہے بلکہ موقع بموقع قرآن کریم کی آیات کو استشہاداً پیش کرنا ان کا وہ طرہ امتیاز ہے جو قاری کے ذہن کے لئے منشط اور ادب عربی وغیرہ علوم آلیہ کے پڑھنے پڑھانے کے اصل مقصد ( یعنی قرآن کریم و احادیث نبویہ پر کامل دسترس) کے حصول کے لئے ممد و معاون ہے۔
عربی زبان و ادب میں سبع معلقات کا جو مقام مرتبہ ہے وہ اہل علم پرمخفی نہیں، یہ عربی زبان کے سات شعری شہ پارے ہیں، جن کی حلاوت، سلاست، چاشنی ، روانی اور شعری خوبیوں پر اہل زبان کا دور جاہلیت میں اجماع ہو چکا تھا، اسی اہمیت و افادیت کے پیش نظریہ ہر زمانے میں عربی زبان کی اعلی تعلیم میں نصاب و منہج کا حصہ رہے ہیں ہمارے دینی مدارس کے نصاب میں بھی سبعہ معلقات داخل ہیں مختلف زبانوں میں ان معلقات کی شروح لکھی جاتی رہی ہیں لیکن اردو زبان میں اس کی ایسی شرح کی ضرورت تھی جس میں سلیس ترجمہ کے ساتھ ساتھ الفاظ کی لغوی تحقیق ، صرفی اشارات و تعلیلات، ضروری نحوی ترکیبیں اور خاص کر قرآنی استشہادات پر کام ہو ، مولانا عتیق الرحمن صاحب فاضل جامعہ دار العلوم کراچی نے تصریحات“ کے نام سے اسی ضرورت کو پورا کرتے ہوئے معلقات کی یہ شرح مرتب کی ہے ، مجھے امید ہے اس شرح کو وہ حیثیت حاصل ہوگی جو اس کی ہونی چاہئے اور علماء وطلبہ میں متداول ہو کر انشاءاللہ شارح کی محنت بار آور رہے گی اللہ تعالیٰ ان کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور مولا نا کومزید علمی کاموں کی تو فیق عطا فرمائے۔

