شیخ القرآن والحدیث مولانامحمد طاہرپنج پیری رحمہ اللہ نوراللہ مرقدہ
مولانا محمد طاہر پنج پیری صوبہ سرحد کے ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے مشہور عالم دین تھے۔ ولادت ترميم آپ 15 ربیع الثانی 1334ھ/فروری 1916ء کو پنچ پیر ضلع صوابی میں غلام نبی خان بن آصف خاں کے گھر پیدا ہوئے۔ تعلیم ترميم ابتدائی تعلیم علاقہ کے علما سے حاصل کی۔ طالب علمی کے ہی زمانے میں آپ نے فضل واحد ترنگزئی کی قیادت مین انگریزوں کے خلاف جہاد میں حصہ لیا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ بعد ازاں حسین علی الوانی سے تفسیر و حدیث کا درس لیا۔ پھر انہی کے ارشاد پر نصیر الدین غورغشوی رحمہ اللہ سے دورہ حدیث پڑھا۔ پھر حسین علی الوانی سے صحاح ستہ کے بعض مقامات کا درس لیا اور روحانی تعلیم اور ذکر و اذکار کا طریقہ سیکھا۔ فلسفہ و حکمت کی کتب کا درس غلام رسول انّہی شریف والوں سے لیا۔ علمی پیاس بجھانے کے لیے پھر دارالعلوم دیوبند پہنچے اور وہاں کے اساتذہ سے خوب خوب استفادہ کیا اور سنہ 1935ء میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت پائی۔ تدریس کا آغاز ترميم تعلیم سے فراغت کے بعد اعزاز علی امروہی کے ارشاد پر مدرسہ منبع العلوم گلاؤٹھی ضلع بلند شہر میں ایک سال تک درس دیا۔ پھر واپس آکر حسین علی الوانی کے حکم پر مدرسہ مظہر العلوم (موجودہ مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن) میانوالی میں تدریس کا آغاز کیا اور توحید و سنت کے لیے بڑی مشکلات کا سامنا کیا۔ آج میانوالی میں جو توحید و سنت کی بہار نظر آ رہی ہے اس کا بیج انہوں نے ہی بویا تھا۔ سفر حج اور مولانا عبید اللہ سندھی سے استفادہ ترميم سنہ 1938ء میں حج کی سعادت حاصل کی۔ وہاں عبید اللہ سندھی سے قرآن مجید،حجۃ اللہ البالغہ اور عبقات کا درس لیا۔ وطن واپسی اور دینی خدمات ترميم 1938ء ہی سے پنج پیر میں اپنے اساتذہ کے ارشاد پر تفسیر و حدیث کا درس دینے میں مشغول ہو گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ ردِّ شرک و بدعت کے لیے تقریر و تحریر کے ذریعے بڑا کام کیا۔ کئی تصانیف منظر عام پر لائے اور اہل باطل کے ساتھ معتدد مناظرے کیے۔ آپ کی مشہور تصانیف میں البصائر للمتوسلين باهل المقابر اصول السنة لرد البدعة ضياءالنور لدحض البدع و الفجور النشاط عن حيلة الاسقاط الانتصار لسنة سيد الابرارﷺ نيل السائرين فى طبقات المفسرين مرشد الحيران الى فہم القرآن (غیر مطبوعہ) سمط الدرر فى ربط الآيات والسور العرفان فى اصول القرآن ذب الذباب عن وجه الاصحاب (غیر مطبوعہ) حقيقت مودودى ارشاد الانام فى ترك القاتحة خلف الامام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ آپ نے اکابر دیوبند کی طرح تحریک آزادی اور تحریک ختمِ نبوت میں بھی عملی حصہ لیا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔1940ء میں آپ نے اپنے علاقے پنج پیر میں ایک عظیم الشان درس گاہ دارالقرآن پنج پیر کی بنیاد رکھی جس میں ہزاروں طلبہ نے کسب فیض کیا اور آپ کے تلامذہ ملک بھر میں دینی و علمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تنظیم سازی ترميم آپ نے اشاعت توحید و سنت اور ردّ شرک و بدعت کے لیے جمعیت اشاعت التوحید و السنہ کی تنظیم سازی میں اہم کردار ادا کیا اور 1985ء میں جمعیت کے مرکزی امیر منتخب ہوئے۔ آپ کی قیادت میں جمعیت نے بہت ترقی کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑا حافظہ عطا فرمایا تھا۔ جس کتاب کا مطالعہ فرمالیتے وہ سالوں یاد رہتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حُسن ظاہر و باطن سے بھی خوب نوازا تھا اور ائمہ اربعہ کی فقہ پر آپ کو پوری دسترس حاصل تھی۔ آپ فقہ حنفی کے پاسبان اور اپنے شیخ و مربی حسین علی الوانی کے عظیم ترجمان تھے۔ وفات ترميم آپ نے 31؍مارچ 1987ء کو اپنے علاقہ میں وفات پائی اور ہزاروں افراد نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔ امامت کے فرائض آپ کے صاحبزادے مولانا محمد طیب طاہری نے ادا کیے اور اپنے آبائی قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔[1] محمد طیب طاہری آپ کے علمی جانشین ٹھہرے اور جماعت کے مرکزی امیر منتخب ہوئے۔میجر محمد عامر بھی ان کے فرزند ہیں جو آئی ایس آئی (.I.S.I) اور آئی بی (.I.B) کے اعلی عہدوں پر براجمان رہ چکے ہیں۔ حوالہ جات حوالہ جات ترميم ↑ ماہنامہ تعلیم القرآن راولپنڈی جولائی 1987ءشیخ العرب والعجم شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طاہر پنج پیری رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ میں نے سورہ فاتحہ کی تفسیر لکھنی شروع کی، متواتر لکھتا رہا، مجھے محسوس ہوا کہ اگر اسی طرح میں لکھتا رہا تو صرف سورہ فاتحہ کی تفسیر مکمل کرتے ہوئے 100 جلدیں مکمل ہو جائے گی. باقی قرآن کی تفسیر کیسے مکمل ہوگی اور اسے مطالعہ کون کرے گا. اسی لیے مختصر کر دیا. حضرت شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں 24 طریقوں پر قرآن کی تفسیر پڑھا سکتا تھا مگر رد شرک و بدعت کے معاملے میں لوگوں نے میری اتنی مخالفت کی اور مجھے مختلف مسائل و مشکلات میں اتنا الجھائے رکھا کہ میں ایک طریقے پر بھی پوری طرح قرآن کی تفسیر نہیں پڑھا سکا.حضرت شیخ رحمہ اللہ نے باوجود بے سروسامانی، ہر قسم مخالفت، ذہنی و جسمانی تکالیف، معاشی قطع تعلق، خاندان اور رشتہ داروں کی طرف سے شدید تنقید کی گئی ، مساجد ان پر بند کی گئی، گلی محلوں اور گاؤں، گاؤں گھوم کر قرآن بیان کرتے رہے اور تقاریر کرتے رہے، سردی کے موسم میں صحراؤں میں راتیں بسر کرنی پڑی، سرد موسم میں ٹھنڈے پانی کے جوہڑ میں پھینکے گئے، اٹھارہ سال تک روزانہ تھانے میں حاضری دینے کے پابند کیے گئے، دوران تقریر مخالفین نے دھاوا بولا، قرآن بھی بیان کرتے رہے اور رحل کے ذریعے خود کو بچاتے بھی رہے، جامع مسجد قندھاری کوئٹہ میں پتھراؤ ہوا، پورا جسم خون سے لہولہان ہوا،اٹھارہ بار قاتلانہ حملے ہوئے، بدعتی مولویوں نے تمام تانگے والوں کو پابند کیا تھا کہ جو تانگے والا اسے بٹھائے گا اس پر جرمانہ عائد کیا جائے گا اس لیے پیدل سفر کرتے تھے. کافر اور وہابی کے فتوے لگنا تو معمول کی بات تھی. ایک جگہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے مسئلہ توحید بیان کرنا شروع کیا اور بدعات و رسومات کی مخالفت کی، مزارات میں جاری شرکیات پر رد کیا تو سب سے پہلے میری والدہ صاحبہ نے مخالفت کی کیوں کہ ان کی سوچ بھی وہی پرانی تھی. بعد میں مطمئن ہوگئی تھی. رشتہ داروں، اساتذہ اور وقت کے علماء کرام نے شدید مخالفت کی. بدقسمتی سے اس امت میں ہمیشہ ایسے لوگوں کی فراوانی رہی ہیں جنہوں نے ہمیشہ اہل حق کی مخالفت کی اور حق بات کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوششیں کی ہے. مگر اللہ تعالٰی کی مدد و نصرت ہمیشہ اہل حق کے ساتھ شامل حال رہتی ہے. اللہ تعالٰی کی ذات پر بھروسہ رکھنے والے باوجود ہر قسم مخالفتوں کے یہ جو ھرجگہ دورہ تفسیر ہے اس کی پیچھے شیخ پنج پیر ہے #قرآن وہ #کتاب ہے جو درس #انقلاب ہے حضرت شیخ القرآن مولانا محمد #طاہر پنج پیری رحمہ اللّٰہ تعالیٰ نے اس دنیائے فانی سے رخصت ہوتے ہوئے وصیت فرمائی تھی کہ، “میری موت یہ نہیں کہ آپ مجھ پر مٹی ڈال دیں بلکہ میری موت یہ ہوگی کہ آپ دروسِ قرآن اور توحید و سنت کی اشاعت چھوڑدیں” ان کے جانے کے بعد ان کے شاگردوں نے دروسِ قرآن مجید اور توحید و سنت کی اشاعت کو ان کی وصیت کے عین مطابق گلی گلی، قریۃ قریۃ، عام کردیا، دنیا کے کونے کونے میں جہاں کہیں بھی درسِ قرآن ہو تو وہ حضرت شیخ القرآن رحمہ اللّٰہ کے شاگرد یا ان کے شاگردوں کے شاگرد ہونگے، اشاعت التوحید والسنۃ کے مدرسین میں سے ہر ایک مدرس کا انداز نرالا ہے ہر پھول کی اپنی خوشبو ہے، قرآن کو دیکھو،پڑھو ،کھولو، غور کرو اور سمجھو اسی میں تسکین قلب ہے اور یہی صراط مستقیم ہے، اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام دروس قرآن کو احسن انداز سے شروع اوراحسن انداز پر اختتام تک پہنچائے۔ آمین ثم آمین




















